ابن مریم — Page 36
کرنا کہ کوئی ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ تمام لوگ اور تمام طبائع ملت واحدہ پر ہو جائیں گی ، یہ غلط ہے۔جس حالت میں اللہ تعالیٰ بنی آدم کی تقسیم یہ فرماتا ہے کہ مِنْهُمْ شَفَي وَسَعِيدُ تو ممکن نہیں کہ کسی زمانہ میں صرف سعید رہ جائیں اور شقی تمام مارے جائیں اور نیز یہ فرمایا ہے وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ یعنی اختلاف انسانوں کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔پس جب انسانوں کی فطرت کثرت مذاہب کو چاہتی ہے تو پھر وہ ایک مذہب پر کیونکر ہو سکتے ہیں ؟ خدا نے ابتداء میں قابیل ، ہابیل کو پیدا کر کے سمجھا دیا کہ شقاوت و سعادت پہلے سے ہی فطرت انسان میں تقسیم کی گئی ہے اور نیز آیت فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَمَةِ اور آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَمَةِ اور آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یہ تمام آیتیں بتلا رہی ہیں کہ قیامت تک اختلاف رہے گا۔منعم علیہم بھی رہیں گے ، مغضوب علیہم بھی رہیں گے۔ہاں ملل باطلہ دلیل کے ९९ رو سے ہلاک ہو جائیں گے۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن۔جلد۱۷۔صفحہ ۳۱۹ ، ۳۲۰۔حاشیه در حاشیہ) قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔سورہ فاتحہ کو دن میں کئی مرتبہ تلاوت کرنے کا حکم امت مسلمہ کو دیا گیا تا کہ یہ مسئلہ ہمیشہ