ابن مریم

by Other Authors

Page 37 of 270

ابن مریم — Page 37

ستحضر ر ہے۔۳۷ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ اس امت کے بعض افراد کو گذشتہ انبیاء کا کمال عطا کیا جائے گا۔اور اسی طرح بعض منکروں کو گذشتہ کفار کی عادات بھی دی جائیں گی۔اور بڑی شدومد سے آئندہ نسلوں کی گذشتہ نسلوں سے مشاہتیں ظاہر ہو جائیں گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول لتتبعن سنن الذين من قبلكم»۔کے مطابق جہاں امت مسلمہ یہود و نصاری کی مغضوبیت اور گمراہی میں حصہ لے گی وہاں اس میں اصفیاء و اتقیاء بھی پیدا ہوں گے جو بنی اسرائیل کے انبیاء کے مثیل ہوں گے۔یعنی جس طرح یہودیوں کی طرح یہودی پیدا ہو جائیں گے ایسا ہی نبیوں کا کامل نمونہ بھی ظاہر ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَحَرَام عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ۔حنت إذا فيُحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حدَبٍ يَنسِلُونَ سُورة الأنبياء 11 یعنی جو لوگ ہلاک کئے گئے اور دنیا سے اٹھائے گئے ان پر حرام ہے کہ پھر دنیا میں آئیں۔ہاں یاجوج و ماجوج کے وقت میں ایک طور سے رجعت ہو گی یعنی گذشتہ لوگ جو مر چکے ہیں ان کے ساتھ اس زمانہ کے لوگ ایسی اتم اور اکمل مشابہت پیدا کر لیں گے کہ گویا وہی آگئے۔پس یاجوج و ماجوج کا زمانہ زمان الرجعت ہے اور یہ رجعت بروزی ہے نہ کہ رجعت حقیقی۔اگر رجعت حقیقی ہو تو پھر سب کو حقیقی طور پر ہی واپس اس دنیا میں آنا چاہئے ، نہ کہ صرف حضرت عیسی کو۔آنحضرت