ابن مریم — Page 26
۲۶۔چنانچہ جب لوگوں کو حضرت عیسی کے بے پدر ہونے پر اشتباه ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے دلوں کو مطمئن کرنے کے لئے حضرت آدم کی نظیر پیش کر دی۔مگر حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کی۔نہ حدیث میں نہ قرآن میں۔حالانکہ نظیر کا پیش کرنا دو وجہ سے ضروری تھا۔ایک اس غرض سے کہ تا حضرت عیسیٰ کا زندہ آسمان کی طرف اٹھائے جانا ان کی ایک خصوصیت ٹھہر کر منجرائی الشرک نہ ہو جائے اور دوسرے اس لئے کہ تا اس بارے میں سنت اللہ معلوم ہو کر ثبوت اس امر کا پایہ کمال کو پہنچ جائے۔سو جہاں تک ہمیں علم ہے خدا اور رسول نے اس کی نظیر پیش نہیں کی۔ہ " (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن۔جلد ۱۷ صفحہ ۹۸ ، ۹۹) حدیث میں آتا ہے «لا يلدغ المؤمن من جحرٍ واحد مرتين»۔مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔جس سوراخ سے یہودی داخل ہو کر ایک نبی پر ایمان لانے سے محروم ہو کر خدا تعالیٰ کی نظر سے گر گئے۔آج مسلمان اسی سوراخ میں داخل ہو کر اس زمانہ کے نبی کا انکار کیر کے متاع ایمان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی پورا ہوا کہ ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل خذو النعل بالنعل۔۔-۔(ترمذي) كتاب الإيمان باب افتراق هذه الأمة)۔میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے ، جن میں ایسی مطابقت ہوگی کہ جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے۔۔۔یہ حدیث نبوی اور ایلیا نبی کی آمد کی پیش گوئی ، مسیح موعود کی آمد کی پیش گوئی