ابن مریم

by Other Authors

Page 21 of 270

ابن مریم — Page 21

۲۱ کی راہ ہموار کرنے آئے گا۔پہلے نبیوں کی یہ پیش گوئی تھی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا معیار تھی۔یہود و نصاری کا اب بھی اس پر اتفاق ہے۔اور وہ اسے برحق مانتے ہیں۔چنانچہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دعوی کیا تو یہودی علماء نے آپ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم نہیں جانتے کہ تو کون ہے کیونکہ جس مسیح کی ہمیں انتظار ہے۔ضرور ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے اتر کر اس کی راہوں کو درست کرے۔اس کے جواب میں ہر چند ج کہا وہ ایلیا جو والا مسیح نے بہت زور دے کر انہیں کہا کہ وہ ایلیا جو آنے والا تھا یہی بیجی، ذکریا کا بیٹا ہے۔جس کو تم نے شناخت نہیں کیا ہے۔لیکن یہودیوں نے مسیح کے اس قول کو ہرگز قبول نہیں کیا بلکہ خیال کیا کہ یہ شخص توریت کی پیش گوئیوں میں الحاد اور تحریف کر رہا ہے اور اپنے مرشد حضرت یحییٰ کو عظمت دینے کی خاطر کھینچ تان کر ایک صاف اور سیدھی عبارت کا مفہوم بگاڑ رہا ہے۔یہود نے کتب مقدسہ کے ظاہر معنوں پر زور دے کر یہ اجماعی عقیدہ قائم کیا تھا کہ در حقیقت ایلیا نبی کا ہی دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے۔اس عقیدہ کی رو سے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو قبول نہ کر سکے اور یہ حجت پیش کی کہ اب تک ایلیا وعدہ کے موافق دوبارہ دنیا میں نہیں آیا پھر مسیح کیسے آگیا ؟ اس ظاہر پرستی نے یہودیوں کو حقیقت فہمی اور دولت ایمان سے محروم کر دیا۔اور در حقیقت ان کی محرومی کی یہی جڑ تھی کہ انہوں نے کتاب مقدس کے ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا تھا۔یہودی کہتے ہیں کہ یسوع مسیح کو قبول نہ کرنے کی یہی وجہ ہے اور یہی ہمارے اور خدا کے درمیان ایک حجت ہے کہ ہمیں نبیوں کی معرفت خبر دی گئی تھی کہ وہ مسیح جس کا کتابوں میں ذکر ہے ہر گز نہیں آئے گا جب تک اس سے پہلے ایلیا جو متی ۱۷ : ۱۰ تا ۱۳ مرقس ۹ : ۱۱ تا ۱۳