ابن مریم

by Other Authors

Page 19 of 270

ابن مریم — Page 19

۱۹ عظیم الشان نشان تھا اور قرآن کریم میں کم از کم ایک آیت تو ہوتی جس میں آپ کے آمد تک زندہ رہنے اور پھر نزول کے بارہ میں وضاحت ہوتی مگر وضاحت تو کیا اشارہ تک موجود نہیں۔اور نہ صحف سابقہ میں اس کی مثال ملتی ہے۔ہاں اس کے برعکس مثال موجود ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ____ " حضرت عیسی نے خود آنا تھا تو صاف لکھ دیتے کہ میں خود ہی آوں گا۔یہودی بھی تو اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ایلیا کا مثیل آنا تھا تو کیوں خدا نے یہ نہ کہا ایلیا کا مثیل آئے گا۔غرض جس قدر مقدمہ ایلیا کا ہے اس پر اگر ایک دانشمند صفائی اور تقوی سے غور کرے تو صاف سمجھ آجاتا ہے کہ کسی کے دوبارہ آنے سے کیا مراد ہوتی ہے اور وہ کس رنگ میں آیا کرتا ہے۔دو شخص بحث کرتے ہیں۔ایک نظیر پیش کرتا ہے اور دوسرا کوئی نظیر پیش نہیں کرتا تو بتاؤ کس کا حق ہے کہ اس کی بات مان لی جاوے ؟ یہی کہنا پڑے گا کہ ماننے کے قابل اسی کی بات ہے جو دلائل کے علاوہ اپنی بات کے ثبوت میں نظیر بھی پیش کرتا ہے۔اب ہم تو ایلیا کا فیصلہ شدہ مقدمہ جو خود مسیح نے اپنے ہاتھ سے کیا ہے بطور نظیر پیش کرتے ہیں۔یہ اگر اپنے دعوی میں بچے ہیں تو دو چار ایسے شخصوں کا نام لے دیں جن کی آسمان سے اترنے کی نظیریں موجود ہیں۔سچ کے حق میں کوئی نہ کوئی نظیر ضرور موجود ہوتی ہے۔اس مقدمہ میں تنقیح طلب امر یہی ہے کہ جب کسی کے دوبارہ آنے کا وعدہ ہو تو کیا اس سے اس شخص کا پھر آنا مراد ہوتا ہے یا اس کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے۔اور اس کی آمد ثانی سے مراد یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کا متیل آئے گا۔اگر اس تنقیح طلب امر میں ان کا دعوی سچا ہے کہ وہ شخص خود ہی آتا ہے تو پھر