ابن مریم — Page 241
۲۴۵ بجز میرے کسی نے اس بات کا دعوی نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے۔اور خدا کا کلام باطل نہیں۔ضرور ہے کہ اس امت میں اس کا کوئی مصداق ہو۔اور خوب غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں۔پس یہ پیش گوئی سورہ تحریم میں خاص میرے لئے ہے اور وہ آیت یہ ہے۔و مريمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتى أَحْصَنَتْ فَرَجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا دیکھو سورہ تحریم الجزء ۲۸ ( ترجمہ ) اور دوسری مثال اس امت کے افراد کی مریم عمران کی بیٹی ہے جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا تب ہم نے اس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے روح پھونک دی یعنی عیسی کی روح۔اب ظاہر ہے کہ نمو جب اس آیت کے اس امت کی مریم کو پہلی مریم کے ساتھ تب مشابہت پیدا ہوتی ہے کہ اس میں بھی عیسی کی روح پھونک دی جائے۔جیسا کہ خدا نے خود روح پھونکنے کا ذکر بھی اس آیت میں فرما دیا ہے اور ضرور ہے کہ خدا کا کلام پورا ہو۔پس اس امت میں وہ میں ہی ہوں۔میرا ہی نام خدا نے براہین احمدیہ میں پہلے مریم رکھا اور بعد اس کے میری ہی نسبت یہ کہا کہ ہم نے اس مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور پھر روح پھونکنے کے بعد مجھے ہی عیسی قرار دیا۔پس اس آیت کا میں ہی مصداق ہوں۔میرے سوا تیرہ سو برس میں کسی نے یہ دعوی نہیں کیا ہیں کہ پہلے خدا نے میرا نام حمي امت مسلمہ میں مریم و عیسی بنے والے تو بہت سے افراد ہیں اور سورہ تحریم میں بھی جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان صفات کے حامل افراد سے زیادہ ہوں گے۔حضرت مولانا روم اور خواجہ میر درد کے نزدیک تو ہر کامل ایک۔