ابن مریم

by Other Authors

Page 230 of 270

ابن مریم — Page 230

۲۳۴ صفات کا حامل ہو جاتا ہے یعنی مقام مرمیت سے مقام عیسویت تک پہنچ جاتا ہے۔تصوف کی زبان میں اسے ولادت معنوی یا ولادت ثانیہ کہا جاتا ہے۔چنانچہ مشہور صوفی امام الطائفہ الشیخ الشہر وردی فرماتے ہیں۔يصير المريد جزء الشيخ كما أن الولد جزء الوالد في الولادة الطبعية وتصير هذه الولادة آنفاً ولادة معنوية كما ورد عن عيسى صلوات الله عليه، لن يلج ملكوت السماء من لم يولد مرتين۔فبالولادة الأولى يصير له ارتباط بعالم الملك ، وبهذه الولادة يصير له ارتباط بالملكوت ، قال الله تعالى : [ وكذلك نري ابرهيم ملكوت السموات والأرض وليكون من الموقنين۔وصرف اليقين على الكمال يحصل في هذه الولادة، وبهذه الولادة يستحق ميراث الأنبياء ومن لم يصله ميراث الأنبياء ما وُلد وإن كان على كمال من الفطنة والذكاء»۔عوارف المعارف، جلد أول ص ٨٥ وص ١٢٥ و ١٢٦)۔کہ مرید اپنے شیخ کا اسی طرح حصہ بن جاتا ہے جس طرح کہ ولادت طبعی میں بیٹا اپنے باپ کا حصہ ہوتا ہے۔مرید کی ولادت ، ولادت معنوی ہوتی ہے جیسا کہ حضرت عیسی نے فرمایا ہے کہ جو شخص دو دفعہ پیدا نہیں ہوتا وہ خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ولادت طبعی سے انسان کا دنیا سے تعلق ہوتا ہے اور ولادت معنوی سے ملکوت اعلی کے ساتھ۔یہی معنے اس آیت کے ہیں۔۔۔۔۔وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ۔۔۔خالص اور کامل یقین اسی ولادت کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔اس پیدائش کے ساتھ ہی انسان انبیاء کی وراثت کا مستحق ہوتا ہے۔جس شخص کو وراثت انبیاء نہ ملے وہ باوجود دانا و ہوشیار ہونے کے پیدا نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موتوا قبل ان تمولوم کہ مرنے سے پہلے موت قبول کرو۔یعنی حقیقی زندگی خواہشات پر موت وارد کرنے کے بغیر ناممکن الحصول ہے۔گویا فرمایا کہ جب تم گناہ آلود جامہ کو سانپ کی کینچلی