ابن مریم

by Other Authors

Page 8 of 270

ابن مریم — Page 8

A ایسی نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ وہی صحیح اسرائیلی نبی جس کو قرآن شریف وفات یافتہ قرار دے چکا ہے کہ جس پر انجیل نازل ہوئی تھی وہی پھر دنیا میں آئے گا۔ہاں یہ لکھا ہے کہ ان اسرائیلی نبیوں کے ہمنام آئیں گے۔جیسا کہ حدیث «علماء أمتي كأنبياء بني اسراءيل»۔بهجة النظر بر حاشية نزهة النظر شرح نخبة الفكر : ص ١٤) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت کی ہے کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے۔۔احادیث میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ نازل ہو گا وہاں مسیح موسوبی اور مسیح محمدی کے حلیہ میں اختلاف بیان کر کے اور آنے والے کو اتنی ٹھرا کر واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ اور ہے اور وہ اور تھا۔پھر اگر اس قسم کی حدیثوں کی تشریح کے لئے جو متنازعہ فیہ ہیں دوسری حدیثوں سے مدد لینا چاہیں تو بھی کوئی حدیث نہیں ملتی جس سے ثابت ہو کہ گذشتہ نبیوں میں سے کبھی کوئی نبی دنیا میں آئے گا۔مگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے مقیل آئیں گے اور انہیں کے نام سے موسوم ہوں گے۔اس جگہ یہ بیان کرنا بے جانہ ہو گا کہ جس حالت میں تقریبا کل حدیثیں قرآن شریف کے مطابق ہیں اور اس عقیدہ کی مؤید ہیں کہ آنے والا مسیح اور ہے ، وہ اسرائیلی مسیح نہیں ہے۔اگر بطور شاذ و نادر کوئی ایسی حدیث ہو بھی جو احادیث کے اس۔وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ يورة ال عمران حمد بحیثیت رسول : بحثت بشر : وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرِ مِن قَبْلِكَ الْخُلد سورة الأناة بحیثیت معبود : وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَتُ غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ الله سورة التحال