ابن مریم

by Other Authors

Page 154 of 270

ابن مریم — Page 154

۱۵۶ ابھی یہ فتنہ فرونہ ہوا تھا کہ ایک نوجوان عبد الحمید جہلمی جو کہ سلطان محمود ایک غیر احمدی مولوی کا بیٹا اور حضرت مولوی برہان الدین جہلمی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کا بھتیجا تھا۔یہ نوجوان آوارہ مزاج اور مفتری تھا اور اپنے گذر بسر کے لئے سرگردان پھرتا تھا۔وہ قادیان میں آیا اور وہاں چند دن رہا اور جب اس کی آوارگی ، بد چلنی اور ناشائستہ حرکات کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچی تو آپ کے حکم سے اسے قادیان سے نکال دیا گیا۔قادیان سے روانہ ہو کر وہ ۶ جولائی ۱۸۹۷ء کو امرتسر پہنچ گیا۔وہاں پہلے وہ پادری نور الدین سے ملا جس نے اسے چٹھی دے کر امریکن مشن کے ایک پادری ایچ۔جی۔گرے کے پاس بھیج دیا۔پادری ایچ۔جی۔گرے نے اسے نکما اور غیر متلاشی حق پاکر پادری نور الدین کے مشورہ سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے پاس بھیج دیا۔ڈاکٹر کلارک اور اس کے ساتھیوں نے یہ دیکھ کر کہ وہ قادیان سے آیا ہے بکمال ہوشیاری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک نہائت خوفناک منصوبہ تیار کیا۔چنانچہ پادریوں نے اسے بہ کا یا اور ڈرایا اور اس سے یہ تحریری جھوٹا بیان لیا کہ وہ مرزا صاحب کی طرف سے ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے بھجوایا گیا ہے۔پادری وارث دین ، پادری عبد الرحیم اور بھگت پریم داس وغیرہ کی سازش سے یہ دجل آمیز منصوبہ تیار ہوا اور یکم اگست ۱۸۹۷ ء کو ڈاکٹر کلارک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک درخواست اے۔ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی خدمت میں پیش کی اور عبدالحمید کا تحریری بیان بھی پیش کر دیا۔عبدالحمید اور ڈاکٹر کلارک کے بیانوں پر مسٹر اے۔ای مارٹیلفہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر نے زیر دفعہ ۱۱۴ ضابطہ فوجداری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر دیا اور لکھا کہ زیر دفعہ ۱۰۷ فوجداری آپ سے حفظ امن کے لئے ایک سال کے واسطے ہیں ہزار کا مچلکہ اور ہیں ہزار روپے کی دو الگ الگ ضمانتیں