ابن مریم — Page 153
۱۵۵ : K عدالت میں مقدمہ وہ جنگ مقدس جو مئی ۱۸۹۳ء میں بصورت مباحثہ حضرت مسیح موعود السلام اور پادری عبداللہ آتھم کے مابین ہوئی تھی۔اس میں عیسائی گروہ کو واضح شکست ہوئی تھی اور یہ شکست پادری عبد اللہ آتھم کے ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو مر جانے سے آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گئی تھی۔اب کسی منصف مزاج کے لئے اسلام کی فتح اور عیسائیت کی شکست میں شک کی گنجائش نہ رہی تھی اور نہ ہی پادریوں کے پاس اپنی شکست چھپانے کے لئے کوئی عذر باقی رہا تھا۔مگر پادری اپنی خفت اور ندامت کو مٹانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف منصوبے سوچ رہے تھے اور گورنمنٹ کے پاس خفیہ طور پر آپ کے خلاف شکایات پہنچا رہے تھے۔انہیں حالات میں آپ کی پیش گوئی کے مطابق ہندووں کا لیڈر اور اسلام کا ایک بد زبان دشمن پنڈت لیکھرام ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل ہو گیا جس پر آریہ سماج نے آپ کے خلاف تحریر و تقریر کے ذریعہ ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا۔اور پنڈت لیکھرام کے قتل کو آپ کی سازش اور منصوبہ قرار دے کر گورنمنٹ کو آپ کے خلاف اکسانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔بقیہ حاشیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں تو پہلے بھی لکھا جاچکا ہے کہ تک وہ ناصرت میں رہا وہ بڑھئی کا کام کرتا رہا۔" ( تاریخ بائبل۔صفحہ ۴۶۳) پس اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ملازمت یا نوکری منافی مقام نبوت نہیں بلکہ دعوی نبوت سے قبل انبیاء کی ایک سنت ہے۔