ابن مریم — Page 133
۱۳۵ کے حوالے نہ کیا جاتا۔" (xiii) (یوحنا ۱۸ : ۳۶) آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۵۴- حاشیه ) اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال در شمین اردو) دو میں تلوار کے ساتھ بھی ظاہر نہیں ہوا۔۲۲ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵- صفحه ۵۲۴ ) مخالفین کے جنازے پڑھنے سے ممانعت آپ نے اپنے مخالفین آپ نے بھی محضر و مکذب کے جنازے پڑھنے سے روکا تھا۔لکھا مخالفین کے جنازے پڑہنے کے متعلق فرمایا ہے کہ " شاگرد نے اس سے کہا۔اے ”جو شخص صریح گالیاں دینے خداوند مجھے اجازت دے کہ پہلے جا کر والا۔کافر کہنے والا اور سخت مذب اپنے باپ کو دفن کر دوں۔یسوع ہے۔اس کا جنازہ تو کسی طرح درست نے اس سے کہا کہ تو میرے پیچھے چل نہیں۔مگر جس شخص کا حال مشتبہ ہے اور مردوں کو اپنے مردے دفن گویا منافقوں کے رنگ میں ہے اس کرنے دے۔" کے لئے ظاہراً حرج نہیں۔کیونکہ جنازہ (متی ۸ : ۲۱ ) و (لوقا ۹ : ۵۹) صرف دعا ہے اور انقطاع بہر حال بہتر et ہے۔(خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام