ابن مریم

by Other Authors

Page 100 of 270

ابن مریم — Page 100

۱۰۲ عيني أحب الزاوية لأوري النفس بماء المعارف۔۔۔فمضى علي دهر في هذه الخلوة ولا يعرفني أحد من الخواص ولا من العامة۔(مواهب الرحمان، روحاني ،خزائن جلد ۱۹، ص ۳۳۸)۔کہ میں شروع سے ہی گوشہ گمنامی میں مستور تھا۔سوائے چند شروع سے جانے والوں کے اور کوئی بھی مجھے نہ پہچانتا تھا۔یہ خلوت نشینی اس وجہ سے تھی کہ میں اپنے نفس کو آب عرفان سے سیراب کر سکوں۔اسی زمانہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی (ع) تنہائی اور علیحدہ مقام میں دعا مسیح موسوی حضرت عیسی علیہ السلام علیحدہ مقام پر جاکر دعائیں کیا کرتے تھے۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے کہ مانگی۔مسیح محمدی " اٹھ کر نکلا اور ایک ویران جگہ میں گیا اور وہاں دعا (مرقس ۳۵۔۱) حضرت مسیح موعود علیہ السّلام بھی بعض اوقات باہر تشریف لے جاتے اور علیحدگی اور تنہائی میں دعائیں کیا کرتے تھے۔اور بعض اوقات مقبروں پر جاکر بھی دعا کی۔علاوہ ازیں ” آپ نے۔خلوت کی دعاوں کے لئے ایک خاص حجرہ تعمیر