ابن مریم

by Other Authors

Page 49 of 270

ابن مریم — Page 49

۴۹ معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس میں لفظ کو حقیقی معنوں سے تعبیر کرنا قواعد فصاحت و بلاغت سے صریح انحراف ہے جو در اصل بیان کو بیہودہ اور لغو بنا دیتا ہے۔اس حقیقت کو اور " عیسیٰ بن مریم " کے استعارہ کو سید کوئین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور جگہ بھی بیان فرما چکے ہیں اور وہاں محض اور محض۔مجازی معنی ہی لئے گئے ہیں۔چنانچہ ایک شامی بزرگ کو جو کہ حضرت سلمان فارسی کے اسلام لانے کا موجب بنے تھے ، کے بارہ میں جب حضرت سلمان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا يا سلمان لقد لقيت عيسى ابن مريم»۔(السيرة النبوية لابن هشام، جلد ۱، ص ۲۲۲ حضرة سلمان فارسي)۔اے سلمان ! تم نے تو عیسی بن مریم سے ملاقات کی ہے۔یہ روایت اس درجہ ثقہ ہے کہ مجدد اول حضرت عمر بن عبد العزیز نے بیان فرمائی ہے اور ابن ہشام جیسے اولین اور مستند تاریخ دان نے اسے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے۔ہم اگر روز مرہ کی بات چیت کو استعارات اور تمثیلات سے مرصع کرتے ہیں تو وہ جس کو جوامع الکلم عطا کئے گئے تھے۔جو زبان دانی کا شہنشاہ تھا۔ام اللغی جس کی نوک زبان پر مچلتی تھی۔جو افصح اللسان اور ابلغ الکلام تھا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔اس کے لئے ہم کیوں روا نہیں رکھتے کہ وہ استعارات و تشبیہات سے اپنے کلام کو مزین کرے۔اس نے اگر مثیل مسیح کو مماثلبت تامہ کے سبب استعارہ مسیح " کہہ دیا تو طبیعت میں انقباض کیسا؟ اور متیل مسیح کے انکار کی کیا وجہ ؟ اصحاب بصیرت تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کسی دوسرے وجود ہی میں ظاہر ہوں گے اور مسیح کے نزول سے مراد متیل مسیح کی آمد مراد ہے۔حضرت امام سراج الدین ابن الور دی لکھتے ہیں :