ابن مریم

by Other Authors

Page 48 of 270

ابن مریم — Page 48

۴۸ وارث اور ان کا مثیل بن جاتا ہے۔(دیکھیں فتوح الغیب۔المقالہ الرابعہ ) جہاں قرآن کریم ، احادیث اور اولیاء اللہ کے کلام وغیرہ استعارات سے بھرے پڑے ہیں ، وہاں کتب سابقہ بھی اس قسم کے استعارات سے پر ہیں حضرت الیاس علیہ السلام کی آمد کی پیش گوئی حضرت یحی علیہ السلام کے وجود میں کس شان سے پوری ہوئی حالانکہ کہا گیا تھا کہ ”ایلیاء نبی کو تمہارے پاس بھیجوں اوصاف اور طبع کی یگانگت کے باعث حضرت بیٹی کو الیاس کہا گیا ہے گا۔k ؟؟۔اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو لوگوں نے دیکھا تو کہا کہ وو یہ یسعیاہ ہے یا یرمیاہ ہے۔(حیات اسیح۔صفحہ ۱۶۴) پس یہ عام محاورہ ہے کہ جب متکلم کا یہ ارادہ ہو کہ مشتبہ اور مشتبہ ہے میں مماثلت نا مہ بیان کرے تو وہ مشتبہ کو مشبہ بہ پر حمل کر دیتا ہے تا انطباق کلی ہو کیونکہ وہ مطلب جو مماثلتِ تامہ کا اس کے دل میں ہوتا ہے حروف تشبیہہ مثلاً مانند " وغیرہ لانے سے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور جس کیفیت کو وہ ادا کرنا چاہتا ہے وہ ان لفظوں سے ادا نہیں ہو سکتی۔ہم اپنی بول چال میں بھی نیک انسان کو فرشتہ ، بہادر کو شیر، سخی کو حاتم ، طاقتور کو رستم اور اسی طرح بے وقوف کو گدھا ، بزدل کو بکری ، چالاک کو لومڑی ، نقال کو بندر، بد زبان کو کتا وغیرہ کہہ کر استعارے استعمال میں لاتے ہیں۔حالانکہ ان اوصاف والے انسان حقیقتاً وہ چیز نہیں ہوتے۔مثلا جب ہم کسی بہادر انسان کو شیر کہتے ہیں تو صرف ایک ہی وصف (بہادری) کی وجہ سے جو اس میں اور شیر میں مشترک ہے ، حروف تشبیہ اڑا کر اسے بعینہ شیر کہہ دیتے ہیں۔حالانکہ وہ دونوں دوسرے اوصاف میں ایک دوسرے سے بالکل جدا اور مختلف ہوتے ہیں۔پس یہ استعارات کا استعمال اور تمثیلی زبان ہے۔استعارہ میں لفظ ہمیشہ مجازی