ابن مریم — Page 47
کے ہم کبشہ " کہا۔اسی مضمون کو علامہ عبید اللہ بن مسعود حنفی نے اپنی کتاب ”التوضیح میں اس طرح بیان کیا ہے : كاستعارة اسم أبي حنيفة رحمة الله تعالى رجل عالم فقيه متَّق»۔یعنی ایک عالم اور فقیہ انسان کو استعارہ ابو حنیفہ کہا جاتا ہے۔(ص ١٨٤)۔علامہ زمخشری لکھتے ہیں : «أبو يوسف أبو حنيفة تريد أنه لاستحكام الشبه كأن ذاته ذاته۔تفسیر کشاف - جلد ۱ - صفحہ ۲۰۲ ) و ( تفسیر بیضاوی - زیر آیت۔هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ) کہ ابو یوسف ابو حنیفہ ہی ہیں۔یہ صرف مشابہت کو مستحکم کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔گویا ابو یوسف کی ذات ابو حنیفہ کی ذات ہے۔یعنی امام ابو یوسف کو استعارہ امام ابو حنیفہ کہا گیا ہے۔۔اسی جاری اور متفقہ اصول کے تحت مولانا شاہ احمد نیاز نے اپنے آپ کو استعارہ کے طور پر نہ کہ حقیقی طور پر عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور علی قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں عیسی مریمی منم ہاشمی منم حیدر شیر از منم (دیوان مولانا شاہ نیاز احمد ) کہ عیسیٰ بن مریم میں ہوں ، احمد ہاشمی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں ہوں ، شیر نر علی حیدر میں ہوں ، اور میں میں نہیں ہوں ، میں میں ہوں۔حتی که سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب فتوح الغیب میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ انسان بحالت ترک نفس و فنافی اللہ تمام انبیاء کا