ابن مریم — Page 41
اسم قرآنِ مجید میں بروز کا بیان اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں بیان فرماتے ہیں۔" جس شخص کے دل میں حق کی تلاش ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن شریف کے رو سے کئی انسانوں کا بروزی طور پر آنا مقدر تھا۔(۱) اول مثیل موسیٰ کا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جیسا کہ آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَهدًا عَلَيْكُمْ مَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ثابت ہے۔(۲) دوم خلفائے موسیٰ کے منیلوں کا جن میں مثیل مسیح بھی داخل ہے جیسا کہ آیت كمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ سے ثابت ہے۔(۳) عام صحابہ کے مثیلوں کا جیسا کہ آیت وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سے ثابت ہے۔(۴) چہارم ان یہودیوں کے مثیلوں کا جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السّلام پر کفر کا فتوی لکھا اور ان کو قتل کرنے کے فتوے دیئے اور ان کی ایذاء اور قتل کے لئے سعی کی جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عليهم میں جو دعا سکھائی گئی ہے اس سے صاف مترشح رہا ہے۔(۵) پنجم یہودیوں کے بادشاہوں کے ان متیلوں کا جو اسلام میں پیدا ہوئے جیسا کہ ان دو بالمقابل آیتوں سے جن کے الفاظ باہم ملتے ہیں ، سمجھا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں