ابن مریم — Page 172
۱۷۴ کا نام ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔باقی جس نے بھی پایا آپ ہی کے فیض سے پایا۔اور حضرت عیسی علیہ السلام پر تو ایک اعتراض تھا جو قرآن نے دور کر دیا۔وہ مردے جن کی روح قبض ہو چکی اور وہ انسان جو وفات پاگئے ان کا زندہ ہونا قرآن کریم کی نصوص بینہ کے خلاف ہے۔خدا تعالیٰ نے کبھی کبھی کسی انسان کو یہ طاقت نہیں بخشی کہ وہ ایسے مردوں کو زندہ کر سکے۔اور اپنی سنت سے بھی آگاہ فرما دیا کہ وہ واپس نہیں آسکتے، دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتے۔پس وہ لوگ جو یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نعوذ باللہ ایسے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے جن کی روح قبض ہو چکی تھی ان کے اس عقیدہ کو حسب ذیل آیات قرانیہ باطل قرار دیتی ہیں۔يُحْيِيكُمْ هَل مِن اللهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُ شركا بكم من وَ ـن يَفْعَلُ مِن ذَلِكُم مِّن شَيْءٍ سُبْحَنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة التوفير هو ئي وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ) رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِ وَيُمِيتُ وَحَرَام عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (٢٥٨) سورة البقرة سورة الأنبياء پس حضرت عیسی علیہ السلام کے احیائے موتی سے مراد یہی ہے کہ آپ کا ایسے مریضوں اور بیماروں کو شفاء دینا جو عین موت کے منہ میں تھے۔اور یہ کہ شفاء الامراض کی قوت عطا ہوئی تھی جو دنیا کے لئے اعجاز کا رنگ رکھتی تھی۔اس تحاظ سے مسیح موسوی اور مسیح محمدی کی مشابہت ملاحظہ ہو۔