ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 166 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 166

ابن سلطان القلم ~ 166 ~ کس طور پر تموج پیدا کرتے تھے ؟ آپ کی نظر میں آپ کی تصانیف میں سے بہترین تصنیف کون سی ہے؟ وغیرہ۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: (1) الف میں فارسی کے دواوین میں سے حافظ، سعدی، صائب، غنی اور واقف کو پسند کرتا ہوں اور رباعیات حضرت خیام، مثنوی مولانا روم علیہ الرحمة، ابیات مولانا جامی، بوستان، کریما۔ب: نثر میں سے گلستان اخلاقی رنگ میں۔(۲) الف اردو دواوین میں سے دیوان غالب، دیوان سودا، دیوان میر، دیوان داغ دیوان ،حبیب کلام اقبال، کلام حضرت اکبر الہ آبادی، کلام حضرت ریاض، کلام حضرت مظفر، کلام حضرت جلیل، کلام جلال، کلام پنڈت بشن نرائن ابر لکھنوی، کلام حضرت حالی، مولانا آزاد مرحوم۔ب: نثر میں سے کلام مولانا عبد الحلیم ناولسٹ، مولانا سیّد احمد صاحب مرحوم، ادبی رنگ میں توبتہ النصوح مولوی نذیر احمد صاحب، تصانیف مولوی عبد الحلیم صاحب شرر تصانیف پنڈت سرشار صاحب لکھنوی، طرز تحریر پنڈت چک بست، کلام مولوی ظفر علی خاں بی اے (علیگ) مالک رسالہ پنجاب ریویو، ا ان کا پورا نام ”ملا پناہ واقف تھا۔یہ ترکی آزربائیجانی زبان کے شاعر تھے اور آذربائیجان کے رہنے والے تھے۔ان کی پیدائش ۰۹۶ اھ اور وفات ۱۱۵۸ھ میں ہوئی۔بہت بڑے شاعر اور سیاستدان تھے۔وزیر اور پھر وزیر اعظم بنے۔مختلف علوم کے ماہر تھے جس کی وجہ سے ان کو ”ملا“ کہا گیا۔انھی کے حوالے سے ایک ضرب المثال بھی بنی ”ہر دانش آموز ملا واقف نمی گردد کہ ہر شاگرد ملا واقف نہیں بنتا۔(مؤلف)