ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 49 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 49

ابن سلطان القلم ~ 49 - سنایا کرتے تھے کہ جتنے جوش سے کوئی شخص قرآن کریم ہاتھ میں لے کر میرے سامنے گواہی دیتا تھا میرے تجربہ میں اُتنا ہی وہ جھوٹا ہوتا تھا۔وہ ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو میرا اچھا واقف تھا اُس کا مقدمہ میرے سامنے پیش ہوا۔وہ کہنے لگا مجھے کوئی اور تاریخ دی جائے کیونکہ جو گواہ میں نے پیش کرنے تھے وہ فلاں فلاں وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے۔میں نے ہنس کر کہا میں تو تمھیں بڑا عقلمند اور ہوشیار آدمی سمجھا کرتا تھا لیکن اب میری طبیعت پر یہ اثر ہوا ہے کہ تم بڑے بیوقوف ہو۔وہ کہنے لگا کیوں؟ میں نے کہا۔گواہوں کے لیے جگہ اور وقت کی کیا ضرورت ہے۔اگر تمہارے پاس کچھ ہے تو روپیہ اٹھنی دے کر بعض آدمی گواہی کے لیے لے آؤ۔چنانچہ وہ باہر چلا گیا اور عملی طور پر تھوڑی دیر کے بعد ہی کچھ گواہ لے آیا۔گواہی لیتے وقت میں ہنستا بھی جاؤں اور اُن سے مذاق بھی کرتا جاؤں۔وہ لوگ قرآن کریم سر پر رکھ کر اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ واقعہ یوں ہوا۔حالانکہ تھوڑی ہے۔دیر ہوئی میں نے خود مدعی کو اس غرض کے لیے باہر بھیجا تھا کہ وہ کچھ دے دلا کر چند گواہ لے آئے۔جب وہ گواہی دے چکے تو میں نے انھیں پکڑا اور اُن سے کہا کہ تم بڑے کذاب ہو، تمھیں واقعہ کا کچھ بھی علم نہیں لیکن محض چند ٹکوں کی وجہ سے تم اتنا جھوٹ بول رہے ہو کہ قرآن کریم کی بھی پروا نہیں کرتے۔ا تفسیر کبیر جلد ۶ صفحه ۵۸۰ 166