ابنِ سلطانُ القلم — Page 30
ابن سلطان القلم ~ 30 مرزا فضل احمد صاحب محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔معزز سرکاری عہدے پر فائز تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت و ماموریت کے بعد مرزا سلطان احمد صاحب کے پاس ہی رہتے تھے۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کی توفیق نہ ملی۔۱۹۰۴ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔قادیان میں اپنے خاندانی قبرستان میں مدفون ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے آپ کی وفات و تدفین کا ذکر بعد نماز مغرب کیا تو آپ نے قدرتی اثر سے متاثر ہونے کے باوصف یہی فرمایا کہ : 'ہم سب مرنے والے ہیں، بلکہ جس قدر انسان زمین پر چلتے پھرتے ہیں، یہ چلتی پھرتی قبریں ہی ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ان کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ان کی وفات کے بعد صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب ہی ان کی دونوں بیویوں کی سرپرستی کرتے رہے۔' الہام أَخُوكَ ڈائیڈ“: مکرم محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ناظر دیوان اپنے والد بزرگوار حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب سے روایت کرتے ہیں کہ ”جب حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے برادر خورد صاحبزادہ مرزا فضل احمد صاحب کی وفات ہوئی تو آپ کو کشف میں ایک پوسٹ کارڈ دکھایا گیا، جس پر یہ الفاظ درج تھے: حیات احمد جلد دوم صفحه ۳۵۲۔سیرت حضرت مسیح موعود از عرفانی صاحب صفحہ ۲۴۹۔حیات النبی جلد اول صفحه ۵۳