ابنِ سلطانُ القلم — Page 24
ابن سلطان القلم ~ 24 - فصل سوم ~ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب سے متعلق متفرق امور تذکرہ رؤسائے پنجاب: تذکرہ رؤسائے پنجاب میں لکھا ہے کہ ”غلام مرتضیٰ، جو ایک لائق حکیم تھا، ۱۸۷۶ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جاستین ہوا۔غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اس کے پاس اُن افسران کے، جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا، بہت سے سر ٹیفکیٹ تھے۔یہ کچھ عرصے تک سرٹ گورداسپور میں دفتر ضلع کا سپرنٹنڈنٹ رہا۔اس کا اکلوتا بیٹا کم سنی میں فوت ہو گیا اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنی کر لیا جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا تھا۔مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اور اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے عہدہ تک ترقی پائی۔یہ قادیان کا نمبر دار بھی تھا، مگر اس نمبر داری کا کام بجائے اس کے اس کا چچا نظام الدین کرتا تھا جو غلام محی الدین کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔مرزا سلطان احمد کو خان بہادر کا خطاب اور ضلع منٹگمری میں پانچ مربعہ جات اراضی عطا ہوئے اور ۱۹۳۰ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔اس کا سب سے بڑا لڑکا مرزا عزیز احمد ایم۔اے اب خاندان کا سر کردہ اور پنجاب میں اکسٹرا اسسٹنٹ