ابنِ سلطانُ القلم — Page 7
ابن سلطان القلم ~ 7 ~ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے آج کل کی اصطلاح میں جسے با قاعده یا سکول کی تعلیم کہا جاتا ہے، کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔اگر سکول ہی کی تعلیم کو تعلیم کہا جائے تو آپ صرف پرائمری پاس تھے، لیکن اگر تعلیم کے صحیح معنوں پر غور کیا جائے تو آپ کی مشرقی طریق پر معقول تعلیم ہوئی تھی۔اُردو تو خیر آپ کی زبان تھی ہی، فارسی میں بھی ادیبانہ شان تھی۔یوں نہیں کہ عربی سے ناواقف نہ تھے بلکہ اس زبان کی ادبیات پر بھی عبور تھا۔انگریزی زبان سے بھی ضروریات زمانہ کے لحاظ سے بہت حد تک واقف تھے۔ހ ۱۸۷۲ء میں حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی اللہ دتا صاحب آف لودی تنگل ضلع گورداسپور کو مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد صاحب کی تعلیم کے لیے بلایا تھا، اس لیے کہ وہ ایک جید عالم تھے۔مولوی الہ دتا صاحب جب قادیان میں آئے تو اکثر حضرت اقدس سے بعض مسائل پر تبادلہ خیالات بھی ہوا کرتا تھا۔تاہم مولوی صاحب زیادہ عرصہ تک قادیان میں نہ رہ سکے اور اس کام کو چھوڑ کر چلے گئے۔۲ ا نیرنگ خیال (لاہور) جوبلی نمبر۔مئی، جون ۱۹۳۲ء صفحہ ۲۸۵۔چیف ایڈیٹر: حکیم محمد یوسف حسن مکتوبات احمد جلد چہارم صفحه ۳۰۳، طباعت ۲۰۱۵ء