ابنِ سلطانُ القلم — Page 226
ابن سلطان القلم ~ 226 - نظم بعنوان " تفهیم بصیرت" نہیں لازم کہ ہر شے کی فقط تم ابتدا دیکھو نگاہِ غور سے انجام دیکھو ، انتہا دیکھو کہا کس نے کہ دنیا میں کوئی ثانی نہیں تیرا اٹھا کر ہاتھ میں آئینہ شکل اپنی ذرا دیکھو بڑھی جاتی ہیں قو میں آگے اور ہم سب سے پیچھے ہیں اگر ہے شرم تو غیرت کی عینک کو لگا دیکھو بزرگوں کی کمائی جتنی تھی وہ تو لٹا بیٹھے اثاثہ جو بچا ہو خال سے اس کو لگا دیکھو ہوئی غارت حکومت اور لیاقت بھی حکومت کی اثر عزت کا جو باقی ہے اب وہ بھی گیا دیکھو عداوت کا ہوا چرچا ، اخوت اُڑ گئی یکسر حسد سے، کبر و نخوت سے ہر اک کو آشناد یکھو ہوا تھا حکم حق ہم کو کہ انساں بھائی بھائی ہیں کیا ہے مومنوں نے کیا عمل اس پر، ذرا دیکھو ہوئی کیوں ایسی حالت کوئی جاکر قوم سے پوچھے خدارا خواب غفلت سے ذرا سر کو اُٹھا دیکھو گل و بلبل کے قصوں نے کہو پھل تم کو کیا بخشا اگر کچھ درد رکھتے ہو تو قصہ قوم کا دیکھو