ابنِ سلطانُ القلم — Page 197
ابن سلطان القلم ~ 197 ~ ہیں۔بعض لوگوں نے اپنے اپنے رنگ میں اور جدید الفاظ وضع کر رکھے ہیں اور ان کو بول چال میں بھی استعمال کرتے ہیں، لیکن محک لسان پر وہ اب تک پر کھے نہیں گئے۔اس واسطے ان کا رواج زیادہ نہیں ہوا۔میر اتو یہ خیال ہے کہ ہر زبان میں رفتہ رفتہ ایسے الفاظ لکھے گئے ہیں اور رفتہ رفتہ ایک مدت کے بعد جزو لسان ہوتے گئے۔اگر الفاظ مہملہ ہم وضع کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ با معنی الفاظ نہ وضع کر سکیں۔یہ بڑی پیچیدہ بحث ہے کہ کس طرح الفاظ خلعت معانی سے مزین ہوتے ہیں۔میری رائے میں تحقیق معانی کا بہت کچھ حصہ محض اعتباری ہے۔اگرچہ بعض السنہ ( عربی و سنسکرت) کے معانی اور الفاظ میں ضرور کوئی نہ کوئی نسبت ہوتی ہے، مگر اکثر دوسری زبانیں اس سے ایک بڑی حد تک معری نظر آتی ہیں۔یہ بحث کہ جدید الفاظ کہاں تک اور کیونکر وضع ہو سکتے ہیں۔اگر چہ بظاہر ایک وقت رہتی ہے لیکن اگر وسعت نظر سے اس پر غور کیا جائے تو اس میں وہ مشکلات نہیں ہیں جو زیر نظر رہتی ہیں۔آخر پرانے الفاظ بھی تو کسی نہ کسی وقت وضع ہوئے ہی تھے اور ان کے واضعین انسان ہی تھے۔شروع میں واضعین الفاظ کی وضع تابع ضروریات تھی تو اب بھی اسی قسم کی ضروریات کے تابع یہ کام ہو سکتا ہے۔انسینہ کی غیر علمی اصطلاحات کے تراجم میں ضرور ایک دقت حائل ہے، لیکن بجائے تراجم کے جدید اصطلاحات اپنی زبان ہی میں بنالی جائیں تو اس میں کیا نقص ہے ؟ ایسی اصطلاحات کا خود اپنی زبان کے دائرہ ہی میں وضع کرنا مشکل ہو گا، مگر آخر یہ مشکل یوں ہی حل بھی ہو سکتی ہے۔