ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 198 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 198

ابن سلطان القلم ~ 198 ~ اگر چہ بعض لوگوں کے خیال میں جدید الفاظ کی وضع اس وقت ایک کٹھن کام ہے اور کوئی اس کا ذمہ وار نہیں ہو سکتا، مگر ضرورت ہر وقت ایسا نہیا کر اسکتی ہے اور پہلی نظیریں اس کی تائید میں ہیں۔ہر زبان میں ہزاروں الفاظ ایسے ہیں جو جدید ہیں اور جدید الفاظ کسی نہ کسی ضرورت کے پیش کرنے پر وضع کیے گئے ہوں گے۔وہی ضروریات اب بھی در پیش ہیں۔اگر یہ منزل کڑی ہو تو اس میں کیا عیب و نقص ہے کہ جن اصطلاحات کا ترجمہ نہیں ہو سکتا یا ابھی تک زبانِ اردو ان کی متحمل نہیں ہوئی، ایسی اصطلاحات بجنسم لے لی جائیں۔یہ خیال کہ ایک غیر زبان کی اصطلاحاتِ علمیہ کا اردو میں لینا زبان کی بدنامی یا نقص کاموجب ہے صحیح نہیں۔اس وقت صد بہا الفاظ اور بیسیوں اصطلاحات اردو میں السنہ تغیر کی کھپ چکی ہیں اور روز بروز ایک خاموشی کے ساتھ کھپ رہی ہیں۔ذرا دفتروں، کچہریوں، بازاروں، پلیٹ فارموں، ٹرینوں وغیرہ میں پھر کر دیکھو کہ جاہل بچے اور عور تیں بھی غیر زبانوں کے الفاظ و اصطلاحات بول رہی ہیں اور بالکل اسی طرح جیسے اپنی زبان کے الفاظ ہوتے ہیں۔رفتہ رفتہ ایسے الفاظ اردو زبان میں کھپتے جائیں گے اور ایک دن ایسے الفاظ بلا کراہت اردو کے جزو سمجھے جائیں گے۔اردو در اصل زیادہ تر ان زبانوں کا نچوڑ ہے جو خود ہندوستان میں کسی وقت مروج تھیں یا اب کسی حد تک مروج ہیں۔کتاب امثال پنجابی“ میں یہ بات مختصر بیان کی گئی ہے کہ پنجابی اور اردو الفاظ یا پنجابی اور اردو زبان میں کہاں تک وابستگی اور مشابہت ہے۔ایسی وابستگی و مشابہت ہندوستان کی دوسری زبانوں کے ساتھ نہیں ہے۔مقابلہ کرنے سے پتا لگتا ہے کہ اردو زبان پنجابی کی اصلاح یافتہ زبان ہے یا پنجابی زبان کا ایک دوسرا اصلاح یافتہ رخ۔