ابنِ سلطانُ القلم — Page 191
ابن سلطان القلم ~ 191 - مرزا صاحب موصوف نہ صرف ایک اچھے نثر نگار تھے اور اس کے ساتھ ہی ایک اچھے ناظم بھی، بلکہ انھوں نے اپنی ستر (۷۰) کے قریب کتب کو زیادہ تر اپنی جیب سے روپیہ خرچ کر کے چھپوایا اور اس طرح اردو کی قلمی خدمت کے ساتھ ساتھ مالی خدمت بھی کی۔میں یہاں اس بات کو پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نہ صرف اردو کے محسن تھے بلکہ مسلمانوں کی بھی انھوں نے ایسی ایسی خدمات سر انجام دیں کہ ان کے وقت میں کم لوگ ہی ایسا کر سکتے تھے۔یہ بات تو عام طور پر دیکھی گئی ہے کہ کسی مصنف نے ایک ہی موضوع پر متعدد کتب تصنیف کی ہوں۔یہ بھی علمی تبحر کی دلیل ہے لیکن کہ کوئی مصنف ایک سے زیادہ موضوعات پر ایک ہی جیسی قدرت اور روانی و سلاست کے ساتھ قلم اُٹھا سکے، بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے اور جس مصنف میں یہ بات پائی جاتی ہو اس کے تجر علمی کا تو پھر کہنا ہی کیا! مرزا سلطان احمد صاحب نے مذہبیات پر قلم اٹھایا تو نہایت بیش قیمت جواہر پارے یادگار چھوڑے۔اخلاقیات پر لکھا تو یوں محسوس ہوا کہ گویا اخلاقیات آپ کا خاص موضوع ہے۔فلسفہ کے متعلق گوہر فشانی کی تو فلاسفروں کو دنگ کر دیا۔ان سب باتوں سے مختلف لیکن ایک نہایت ہی اہم مضمون جس کے ساتھ مسلمانوں کی بہبود وابستہ تھی اس پر بھی لکھا اور وہ تھا: زمیندارہ بینکاری