ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 190 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 190

ابن سلطان القلم ~ 190 ~ دیکھ کر بے اختیار ان کی بے نظیر قابلیت اور اعلیٰ علمی لیاقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ہزار ہا علمی و ادبی اور فلسفیانہ و محققانہ مضامین لکھنے کے علاوہ ساٹھ سے زیادہ کتابیں انھوں نے لکھیں جو مختلف مسائل پر مشتمل ہیں۔یہ فاضل یگانہ اور ادیب شہیر ۲ جولائی ۱۹۳۱ء کو اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر عالم جاودانی کی طرف روانہ ہو گیا، مگر اپنا کوئی مثیل و نظیر چھوڑ کر نہیں گیا، جو اس کی طرح رسائل و جرائد میں علم اور ادب کے دریا بہاتا۔سچ ہے۔محسن اُردو: جو گیا اس کا قائم مقام آیانہ پھر ' مکرم مولانا نیم احمد سیفی صاحب مدیر روزنامہ " لفضل " ربوہ تحریر کرتے ہیں: «محسنین اردو میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے جو مختلف ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں، آپ نے تقریباً ان تمام ذرائع کو استعمال کیا اور ایسے وقت میں کیا جب کہ اردو زبان کو خاص طور پر اس بات کی ضرورت تھی کہ صاحب اقتدار لوگ اسے سہارا دیں اور نہ صرف قلمی خدمت انجام دیں بلکہ اشاعت و ترویج کے لیے قلمی جواہر پاروں کو اپنی جیب خرچ کر کے شائع کریں اور ملک کے مختلف طبقوں تک اس کی سے روپیہ رسائی کا سامان بہم پہنچائیں۔ا تبصره بر اسرار بے خودی صفحه ۵۰۴