ابنِ سلطانُ القلم — Page 146
ابن سلطان القلم ~ 146 ~ میل جول کم تھا وہ ہم سے ڈرتے تھے اور ہم اُن سے ڈرتے تھے۔(یعنی وہ ہم سے الگ الگ رہتے تھے اور ہم اُن سے الگ الگ رہتے تھے کیونکہ ہر دو کا طریق اور مسلک جدا تھا) اور چونکہ تایا صاحب مجھے بیٹوں کی طرح رکھتے تھے ور جائیداد وغیرہ بھی سب اٹھی کے انتظام میں تھی۔والد صاحب کا کچھ دخل نہ تھا اس لیے بھی ہمیں اپنی ضروریات کے لیے تایا صاحب کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا تھا۔(۱۵) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ والد صاحب کی ایک بہن ہوتی تھیں اُن کو بہت خواب اور کشف ہوتے تھے مگر دادا صاحب کی اُن کے متعلق یہ رائے تھی کہ اُن کے دماغ میں کوئی نقص ہے لیکن آخر انھوں نے بعض ایسی خواہیں دیکھیں کہ دادا صاحب کو یہ خیال بدلنا پڑا۔چنانچہ انھوں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کوئی سفید ریش بڑھا شیخ اُن کو ایک کاغذ جس پر کچھ لکھا ہوا ہے بطور تعویذ کے دے گیا ہے۔جب آنکھ کھلی تو ایک بھوج پتر کا ٹکڑہ ہاتھ میں تھا۔جس پر قرآن شریف کی بعض آیات لکھی ہوئی تھیں۔پھر انھوں نے ایک اور خواب دیکھا کہ وہ کسی دریا میں چل رہی ہیں جس پر انھوں نے ڈر کر پانی پانی کی آواز نکالی اور پھر آنکھ کھل گئی دیکھا تو اُن کی پنڈلیاں تر تھیں اور تازہ ریت کے نشان لگے ہوئے تھے۔دادا صاحب کہتے تھے کہ ان باتوں سے خلل دماغ کو کوئی تعلق نہیں۔