ابنِ سلطانُ القلم — Page 145
ابن سلطان القلم ~ 145 - میاں جان محمد کا بھائی غفارہ والد صاحب کے ساتھ سفروں میں بعض دفعہ بطور خدمت گار کے جایا کرتا تھا اور بعض دفعہ کوئی اور آدمی چلا جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں جان محمد قادیان کا ایک نیک مزاج ملا تھا اور حضرت صاحب کے ساتھ بہت تعلق رکھتا تھا۔اوائل میں بڑی مسجد میں نماز وغیرہ بھی وہی پڑھایا کرتا تھا غالباً حضرت خلیفہ ثانی کو بھی بچپن میں اُس نے پڑھایا تھا۔غفارہ اُس کا بھائی تھا۔یہ شخص بالکل جاہل اور ان پڑھ تھا اور بعض اوقات حضرت صاحب کی خدمت میں رہتا تھا۔بعد میں جب قادیان میں آمد و رفت کی ترقی ہوئی تو اُس نے لگے بنا کر یگہ بانی شروع کردی تھی۔اس کے لڑکے اب بھی یہی کام کرتے ہیں۔بوجہ جاہل مطلق ہونے کے غفارے کو دین سے کوئی مس نہ تھا مگر اپنے آخری دنوں میں یعنی بعہد خلافت ثانیہ احمدی ہو گیا تھا۔شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کی نصیحت سے غفارے نے اوائل میں جب وہ حضرت صاحب کی خدمت میں تھا، نماز شروع کر دی تھی مگر پھر چھوڑ دی۔اصل میں ایسے لوگ اعراب کے حکم میں ہوتے جان محمد مرحوم نیک آدمی تھا اور کچھ پڑھا ہوا بھی تھا۔اُس کے لڑکے میاں دین محمد مرحوم عرف میاں بگا کو ہمارے اکثر دوست جانتے ہوں گے۔قوم کا کشمیری تھا۔ہیں مگر (اله) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ والد صاحب کے ہمارے ساتھ بہت کم تعلقات تھے۔یعنی