ابنِ سلطانُ القلم — Page 138
ابن سلطان القلم ~ 138 ~ بعض کاغذوں میں تو ۱۸۶۴ء لکھا ہے مگر ہندو پنڈت مجھے کہتا تھا کہ میری پیدائش ۱۹۱۳ بکرمی کی ہے۔اور میں نے سنا ہے کہ والد صاحب کی عمر میری ١٩١٣ء ولادت کے وقت کم و بیش اٹھارہ سال کی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے بکرمی والی روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ دوسرے قرائن اس کے مؤید ہیں۔نیز یہ بات بھی کہ ہندو عموماً جنم پتری کی حفاظت میں بہت ماہر ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے مرزا سلطان احمد صاحب کی پیدائش ۱۸۵۶ء کے قریب کی بنتی ہے اور اگر اُس وقت حضرت صاحب کی عمر اٹھارہ سال سمجھی جاوے تو آپ کا سن ولادت وہی ۱۸۳۷ء کے قریب پہنچتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ ۱۸۳۶ء والی روایت صحیح ہے۔اس کا ایک اور بھی ثبوت ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے (دیکھو التبلیغ آئینہ کمالات اسلام اور بیان بھی فرمایا کرتے تھے کہ میری والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ ہمارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے تھے اور فراخی میٹر آگئی تھی اور اسی لیے وہ میری پیدائش کو مبارک سمجھا کرتی تھیں۔اب یہ قطعی طور پر یقینی ہے کہ راجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں ہی خاندان کے مصائب کے دن ڈور ہو کر فراخی شروع ہو گئی تھی اور قادیان اور اُس کے ارد گرد کے بعض مواضعات دادا صاحب کو راجہ رنجیت سنگھ نے بحال کر دیے تھے اور اپنے ماتحت دادا صاحب کو معزز فوجی عہدہ بھی دیا تھا اور راجہ کے ماتحت دادا صاحب نے بعض فوجی