ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 91 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 91

ابن سلطان القلم ~ 91 ~ مرزائی ٹولہ کو اگر خدا اپنی مرضی سے قادیان سے نکالے تو نکالے۔نہ وہ سلطان احمد کے کہنے سے نکلتے ہیں اور نہ سلطان احمد ان کو نکالتا ہے بلکہ ان کی مناسب دلجوئی پر مستعد اور تیار ہے۔میں کیا؟ کل خاندان سے کسی ایک نے بھی مخالفت نہیں کی۔آخر غیرت بھی تو کوئی شے ہے اور وہ ہے اور وہ منجملہ فرائض اسلام آپ بالکل مطمئن رہیں نہ مجھ سے کوئی ایسی شرمناک حرکت سرزد ہوئی اور نہ ان شاء اللہ تعالیٰ ہو گی۔سلطان احمد جالندھر ۲ / جون ۱۹۰۸ء۱ آپ کے مندرجہ بالا خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ باوجود بیعت نہ کرنے اور دور دور رہنے کے آپ نے نہ صرف مخالفت نہ کی بلکہ نہایت غیرت کے۔ہے۔مندی کا ثبوت دیا اور انکسار دکھایا۔”دلہن کو پہلے حضرت خلیفہ المسیح کے پاس لے جاؤ“: حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب بیان کرتے ہیں: ”حضرت والد صاحب نے اگر چہ ابھی بیعت نہ کی تھی مگر جماعت اور خلافت کے ساتھ اُن کو جو عقیدت تھی وہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ظاہر ہے۔میری پہلی شادی مکرم مرزا محمد اعظم بیگ صاحب کی دختر سے ہوئی۔ہم بارات لے کر لاہور گئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ الحکم ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ء ۲ ایاز محمود۔صفحہ ۱۷۷-۱۷۹