ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 70 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 70

ابن سلطان القلم ~ 70 ~ میں نے دیکھا ہے ہم چھوٹے ہوتے تھے۔ایک سیڑھی تھی جو دونوں گھروں کے درمیان تھی۔ہم وہاں سے گزرتے تو ہماری تائی صاحبہ اکثر کہتیں۔”جیسے کو ا ویسے کو کو “ یعنی جس رنگ کا باپ ہے یہ بچے بھی اسی رنگ میں رنگین ہیں۔مجھے یہ کہتے ہوئے کچھ حجاب نہیں آتا۔کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ قلب کی حالت ہو اور پھر ہدایت نصیب ہو تو یہ تو معجزہ ہو جاتا ہے اور پھر ان کا درجہ بھی بڑھ جاتا ہے، کیونکہ باوجود اتنی مخالفت کے اللہ تعالیٰ نے آخر کوئی نیکی دیکھی ہی تھی جو انھیں ہدایت دے دی۔یہی حال میں دیکھتا ہوں مرزا سلطان احمد صاحب کا تھا۔اس رنگ میں تو نہیں جس رنگ میں تائی صاحبہ کا تھا مگر ایک اور رنگ میں ان کا بھی ضرور ایسا ہی حال تھا۔اس میں شبہ نہیں مرزا سلطان احمد صاحب ہمیشہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جھوٹ نہیں بولتے۔اپنا باپ ہونے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی الواقع ان کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راستبازی گھر کر چکی تھی، مگر یہ نہیں کہ وہ آپ کے الہامات کی ایسی عظمت اور شان سمجھتے ہوں جیسے ایک مامور کے الہامات کی سمجھنی چاہیے۔مجھے ان کا ایک فقرہ خوب یاد ہے۔شروع شروع میں جب میں نے ان سے ملنا شروع کیا تو ایک دن باتوں باتوں میں کہنے لگے۔مجھے یقین ہے ہمارے والد صاحب کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی بڑھ کر محبت تھی۔اپنے رنگ میں تو انھوں نے یہ فقرہ محبت میں ہی کہا ہو گا، مگر مجھے بڑا بُرا