ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 63 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 63

ابن سلطان القلم ~ 63۔~ صاحب کے ہاں تشریف لے جانے اور بیعت لینے کے لیے عرض کیا۔حضور اُسی وقت میرے ہمراہ مرزا صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے اور اور اس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں مرزا صاحب بستر علالت پر تھے۔مرزا صاحب کی طبیعت اس وقت اچھی تھی۔کوئی بخار وغیرہ یا کسی قسم کا عارضہ نہ تھا، بجز اس تدریجی کمزوری کے جو ٹانگوں میں پیدا ہو گئی تھی اور آپ کھڑے نہ ہو سکتے تھے۔دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کی مزاج پرسی کی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ مرزا صاحب کی چارپائی کے پاس کرسی پر بیٹھ گئے۔دونوں بھائیوں پر خاموشی طاری تھی تو کچھ توقف کے بعد میں نے مرزا صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جیسا کہ آپ خواہش ظاہر کر چکے ہیں اب آپ ہاتھ بڑھائیں اور بیعت کر لیں۔چنانچہ آپ نے برضاور غبت ہاتھ بڑھایا اور حضرت خلیفۃ المسیح رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تاکہ اس دیر سے بچھڑے ہوئے بھائی کو اپنے عالی مقام، والا شان، خدا کے جری کی آغوشِ شفقت میں داخل کر لیں۔بیعت شروع ہوئی۔حضور دھیمی آواز میں بیعت کے الفاظ کہتے تھے اور مرزا صاحب ان کو دہراتے تھے۔جس وقت یہ الفاظ بولے گئے: " آج میں محمود کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر کے احمدی جماعت میں داخل ہوتا ہوں۔“