ابنِ سلطانُ القلم — Page 61
ابن سلطان القلم ~ 61 - ~ فرما تھے۔پھر قادیان آگئے اور یہاں علاج معالجہ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اسی لمی اور آخری بیماری کے دوران خاکسار کو بہت کچھ طبی خدمت کا موقع ملتا رہا۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی مرزا صاحب کو مغموم نہ پایا۔اکثر لطائف کے رنگ میں بات کرتے تھے۔“ ایک روز خاکسار نے مندرجہ ذیل رؤیا مرزا صاحب کو سنایا: "۔”خاکسار نے ۱۲ / رمضان ۱۹۳۰ء کو جب میں فجر کی نماز کے بعد لیٹ گیا تھا تو رویا میں دیکھا کہ شور بپا ہے اور اعلان سا ہو رہا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آ رہے ہیں پھر دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جن کے ہمراہ اس وقت صرف یہ ناچیز راقم ہے حضرت کے استقبال کے لیے چوک مسجد مبارک سے ریلوے اسٹیشن سے آنے والے راستہ کی طرف بڑھے ہیں اور ابھی تھوڑا سا آگے بڑھے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس وقت حضور نے نہایت سفید براق نقاب پہنا ہوا ہے جس کو حضور نے جب اُتارا تو حضور کا چہرہ مبارک ایسا منور نظر آیا جس کی مثال بیان نہیں کی جاسکتی۔اس وقت پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصافحہ کیا، اس کے بعد خاکسار نے۔حضور پرنور نے خاکسار کے ہاتھ کو کچھ زیادہ دیر تک اپنے ہاتھ میں تھامے رکھا۔ابھی میرا ہاتھ حضور کے ہاتھ میں ہی تھا کہ ایک طرف تو حضور کی شکل میں کچھ تبدیلی