ابنِ سلطانُ القلم — Page 44
ابن سلطان القلم ~ 44 - ~ شخص حضور کی رعایا کے لیے سبب زحمت ہے تو میں نے حضور کے ہی دیے ہوئے اختیارات سے کام لے کر اُس کو سزا دے دی۔اگر میں ایسا نہ کرتا تو اس فرض کی بجا آوری میں کوتاہی ہوتی جس کے بجا لانے کے لیے حضور کی ریاست نے مجھے مقرر کیا ہے۔بیگم صاحبہ آپ صاحبہ آپ کے جواب سے بہت خوش ہوئیں اور منہ چڑھے خادم نے اپنے کیے کی سزا پائی۔بے داغ کردار جب بڑے بڑے اختیارات کی باگیں مرزا سلطان احمد صاحب کی مٹھی میں تھیں اور وہ اپنی ایک گردش چشم یا ایک جنبش قلم اور زبان کی معمولی سی حرکت سے متعلقہ لوگوں کے کام بنا اور بگاڑ سکتے تھے۔ہر نازک موقع پر ترغیب و تحریض کی آلائشوں سے ان کا دامن پاک رہا۔ایسا ہی ایک واقعہ یہ ہے کہ جب وہ ایک ضلع میں حاکم با اختیار ہو کر گئے جہاں کے بعض بڑے بڑے لوگ اپنی شورہ پستی میں شہرہ آفاق تھے۔ان کا دستور تھا کہ جب کوئی نیا حاکم ان کے ضلع میں جاتا تو وہ اسے کسی نہ کسی طرح اپنے شیشہ میں اُتار لیتے اور اپنے رنگ پر لے آتے۔جب مرزا سلطان احمد صاحب وہاں پہنچے تو یہ انسانی بھیڑیے بھی شیر دار بکریوں کی صورت میں آپ کے سامنے آئے۔مگر ان کو معلوم نہ تھا نیرنگ خیال جوبلی نمبر۔مئی، جون ۱۹۳۴ء صفحہ ۲۸۸