ابنِ سلطانُ القلم — Page 26
ابن سلطان القلم ~ 26 - ~ بھی سب اٹھی کے انتظام میں تھی، والد صاحب کا کچھ دخل نہ تھا، اس لیے 166 بھی ہمیں اپنی ضروریات کے لیے تایا صاحب کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا تھا۔صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے والد بزرگوار خالصةً خدا خواہی اور دینی مہمات میں مشغول تھے اور دنیا کے کاموں، زمین جائیداد کے انتظام اور دیگر مالی معاملات سے بالکل لا تعلق تھے، اس لیے طبعا باپ بیٹے میں ایک حجاب بیگانگی حائل ہو گیا تھا۔قادیان کے نمبر دار: مرزا غلام قادر صاحب کی وفات کے بعد صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب سرکاری کاغذات میں قادیان کے نمبر دار تھے، البتہ نمبر داری کا کام بجائے ان کے مرزا نظام الدین صاحب کرتے تھے ، جو حضرت اقدس کے چچا مرز اغلام محی الدین صاحب کے بیٹے تھے۔جائیداد کا معاملہ : ۹/ جولائی ۱۸۸۳ء کو جب حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے تایا مرزا غلام قادر صاحب بعمر ۵۵ سال لاولد فوت ہو گئے۔تمام دنیوی امور ان کی ذات سے وابستہ تھے۔حضرت مسیح موعود کو دنیوی امور سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔حرمت ا سیرت المہدی جلد اول صفحہ ۲۰۲ ۲ کتاب تذکرہ رؤسائے پنجاب جلد دوم ص ۶۹،۶۸، سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۱۳۴