ابنِ سلطانُ القلم — Page 276
ابن سلطان القلم ~ 276 - نے خاکسار کو بلوایا اور فرمایا کہ میں نے آپ کا مضمون پڑھ لیا ہے۔مضمون بہت اچھا ہے لیکن اس میں دو تین روایات نہیں آئیں۔آپ نے وہ روایات خاکسار سے بیان کیں اور فرمایا کہ بے شک میری روایت سے شامل کر دیں۔چنانچہ خاکسار نے ان روایات کے نوٹس لے لیے۔پھر خاکسار نے عرض کیا کہ میں نے بھی دو روایات سنی ہیں لیکن شامل نہیں کیں۔ایک محترم میر محمود احمد ناصر صاحب انچارج ریسرچ سیل کی ہے اور دوسری محترم چودھری محمد علی صاحب وکیل التصنیف کی۔دونوں روایات سن کر آپ نے فرمایا کہ ان کو بھی ضرور شامل کریں۔چنانچہ خاکسار نے محترم چودھری صاحب کی روایت لکھ کر محترم چودھری صاحب کو چیک کروائی اور محترم میر صاحب کی روایت ان کے سامنے زبانی بیان کر کے تصدیق کر والی۔پھر ان سب روایات کو ضبط تحریر میں لا کر محترم صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا۔اس واقعہ کے بعد جلد ہی (اپریل ۲۰۰۷ء میں) خاکسار مرکز کی ہدایت پر عربی زبان کی تحصیل کے لیے سیر یا چلا گیا۔وہاں ۲۰۰۸ء میں خاکسار کو معلوم ہوا کہ مضمون روز نامہ الفضل میں شائع ہو گیا ہے۔سیریا سے واپس آکر ۲۰۱۲ میں خاکسار نے اس پر مزید کام کیا اور بہت کچھ ایز ادیاں اور تبدیلیاں کیں، ابواب اور فصول میں تقسیم کر کے باقاعدہ ایک کتاب کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔وقتاً فوقتاً اس میں مزید اضافہ بھی ہوتا رہا۔