ابنِ سلطانُ القلم — Page 232
ابن سلطان القلم ~ 232 ~ واقعات کے پیرائے میں اہل قوم اور اہل ملک کو ان باتوں اور ان ضروریات سے آگاہ کیا جائے کہ جن کی انھیں بلحاظ مقتضیات زمانہ اشد ضرورت ہے۔بالفعل اس کی پہلی جلد معرض طبع میں آکر شائع کی جاتی ہے۔اگر وقت سے یاری اور زندگی نے وفا کی تو ان شاء اللہ اس کے اور حصص بھی اپنے وقت پر شائع ہوتے رہیں گے۔“ جیسا کہ مصنف نے بیان کیا ہے کہانی کے ساتھ اس ناول میں ضروری مضامین بیان کیے گئے ہیں، جیسے: پرنس حامد کے عزم سفر کے ضمن میں سفر کے موضوع پر عالمانہ بحث کی گئی ہے۔اسی طرح مقتول اسلم کی سرگذشت میں قاتلوں کی سزایابی اور طافی نامی مجرم کا حکم سز اسن کر عبرت ناک اور دلوں کو ہلا دینے والی تقریر کرنا، افضل کا اپنی بیوی حمیدہ کو الوداعی نصیحت، سوداگر زادے کا جھوٹا عشق اور صائب کی قیمتی نصیحتیں اور حقیقت عشق کا بیان، دریائے چناب کی طغیانی میں اسعد کے کنبے کے غرق ہو جانے پر اسعد کا پُر درد نوحہ ، زمانے کی نیرنگی اور دوستوں کی بے وفائی، راجہ اور نواب کی عشق بازیاں اور بالآخر ان کی مایوسانہ پشیمانی وغیرہ۔ناول کیا ہے، ہمارے گردو پیش ہونے واقعات کا نقشہ اور معاشرے کی خرابیوں نشان دہی اور ضروری نصیحت و عبرت کا مرقع ہے، جو ۱۸۹۳ء میں بفرمائش فضل الدین تاجر کتب قومی و مالک اخبار اشاعت لاہور بازار کشمیری از محمدی پریس لاہور زیور طباعت سے آراستہ ہوا۔صاحبزادہ صاحب اس وقت لاہور میں نائب تحصیلدار کے عہدہ پر فائز تھے۔