ابنِ سلطانُ القلم — Page 199
ابن سلطان القلم ~ 199 ~ بہت سے الفاظ پنجابی زبان کے بادنی تغیر اردو بن جاتے ہیں اور بہت سے بجنسم اردو میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اردو زبان بمقابلہ مدراس، گجرات وغیرہ کے زیادہ تر سہولت سے جگہ لے رہی ہے۔صدر با الفاظ دونوں زبانوں کے ملتے ہیں اور دونوں زبانوں میں ایک ہی مضمون ادا کیا جائے تو قریباً دونوں زبانوں کے الفاظ بہت تھوڑے سے تصرف کے بعد، جو زیادہ تر لب ولہجہ اور آب و ہوا کے تابع ہوتا ہے، مشترک نکلیں گے۔مثلاً: پنجابی میں ایک شخص کہتا ہے: اردو بھائی جی بھائی صاحب سلام علیکم۔کل تساں ضرور میرے مکان السلام علیکم۔کل تم ضرور میرے مکان پر اوپر آونا۔مینوں تساڈے نال اک کم ہے۔آنا۔مجھے تم سے ایک کام ہے۔میں چاہتا میں چاہنا ہاں کہ تسیں آؤ تے ایہہ کم چھیتی ہوں کہ تم آؤ تاکہ یہ کام جلدی ہو مک جاوے۔اس تھوں پہلے بھی اک واری جائے۔اس سے اول بھی ایک بار تم کو یہ تسانوں لکھیا گیا سی۔مہربانی کر کے ہن اس لکھا گیا تھا۔مہربانی کر کے اب اس میں دیر وچ دیر نہ ہووے، نئیں تے میرا کم وگڑ نہ ہو، نہیں تو میرا کام بگڑ جائے گا۔تم جاوے گا۔تسیں جاندے ہو۔میں ہو روی جانتے ہو میں اور بھی بہت سے کام رکھتا بہتیرے کم رکھناں ہاں۔تساڈی ٹھل ہوں۔تمہاری دیر میرے واسطے زہر میرے واسطے زہر ہے۔بھائی جی جیو کر ہے۔بھائی جی! جس طرح ہو سکے اسی ہووے تو کر آؤ، تے مینوں آون تھوں طرح آؤ اور مجھ کو آنے سے پہلے پیغام پہلے سہنیا بھیج دینا جی۔بھیج دینا۔