ابنِ سلطانُ القلم — Page 162
ابن سلطان القلم ~ 162 ~ ہر زیادہ لکھنے کے باوجود آپ نے نہ صرف زبان و بیان کے انتہائی معیار کو رکھا بلکہ موضوع کو اس طرح زیر بحث لائے کہ اس کا حق ادا کر دیا اور کسی موضوع کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دی۔تاریخ علم و ادب میں اس رعایت کے ساتھ لکھنے والے کی مثال کم ہی مل سکے گی۔آپ اپنے معاصرین میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ہر رسالہ آپ کے مضامین کو اپنی زینت بنانا اپنے لیے باعث فخر گردانتا اور دیگر تمام بڑے قلم کاروں کے بالمقابل آپ کے مضمون کو سر فہرست جگہ دی جاتی تھی۔عظیم علمی و ادبی قدو قامت کی حامل یہ شخصیت اس عظیم ہستی کے فرزند اکبر تھے جس کو خدائے رحمن نے سلطان القلم کے خطاب سے نوازا اور دنیا والوں نے اس کے قلم کو سحر اور زبان کو جادو قرار دیا۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی تحریرات میں اپنے والد بزرگوار کے قلم کی سحر انگیزی کا عکس نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہندوستان کے افق ادب پر چھایا رہنے والا یہ شخص یکا یک منظر علم و ادب سے غائب ہو گیا اور آج اردو ادب کا طالبعلم آپ کا نام تک نہیں جانتا، محض اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس وقت تک آپ کی روح کو قبض نہیں کیا جب تک آپ کو شخص ا مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر نے حضرت مسیح موعود کے بارہ میں لکھا: ” وہ بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا، جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی، جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے۔وہ شخص مذہبی دنیا کے لیے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان بنارہا۔“