ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 159 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 159

(۴۰) ابن سلطان القلم ~ 159 - ~ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ آخری عمر میں دادا صاحب نے ایک مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے موجودہ بڑی مسجد کی جگہ کو پسند کیا اس جگہ سکھ کارداروں کی حویلی تھی۔جب یہ جگہ نیلام ہونے لگی تو دادا صاحب نے اس کی بولی دی مگر دوسری طرف دوسرے باشندگان قصبہ نے بھی بولی دینی شروع کی اور اس طرح قیمت بہت چڑھ گئی۔مگر دادا صاحب نے بھی پختہ قصد کر لیا تھا کہ میں اس جگہ میں ضرور مسجد بناؤں گا۔خواہ مجھے اپنی جائیداد فروخت کرنی پڑے۔چنانچہ سات سو روپیہ میں یہ جگہ خریدی اور اس پر مسجد بنوائی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت کے لحاظ سے اس جگہ کی قیمت چند گنتی کے روپے سے زیادہ نہ تھی مگر مقابلہ سے بڑھ گئی۔(لدا ) بیان کیا مجھ سے رحیم بخش صاحب نے کہ بیان کیا اُن سے مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ جو عورت والد صاحب کو کھانا دینے جاتی تھی بعض اوقات واپس آکر کہتی تھی ”میاں اُن کو (یعنی حضرت صاحب کو) کیا وہ ہوش ہے۔یا کتابیں ہیں اور یا یہ ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ناظرین کو یاد ہو گا کہ میں نے تمہید میں یہ لکھا تھا کہ بغرض سہولت میں تمام روایات صرف اردو زبان میں بیان کروں گا۔خواہ وہ کسی زبان میں کہی گئی ہوں۔سو جاننا چاہیے کہ فقرہ مندرجہ بالا بھی دراصل پنجابی میں کہا گیا تھا۔یہ صرف بطور