ابنِ سلطانُ القلم — Page 131
ابن سلطان القلم ~ 131 - ~ ہے میرے پاس آئی اور لڑائی کا ارادہ رکھتی ہے اور کھڑی ہو کر میری طرف ایک سوٹا چلایا جو سیاہ رنگ کا تھا۔میں نے اپنی سفید سوئی سے اس کو روک دیا۔بعد اس کے میں نے اس کو کہا کہ اگر میں نفسانی آدمی ہوں تو تم مجھے فنا کر سکتی ہو ، لیکن اگر میں نفسانی آدمی نہیں تو تم مجھے فنا نہیں کر سکتیں۔خدا کا کلام ذو الوجوہ اور ذوالمعنی ہوا کرتا ہے۔عمومی بالا تشریح کے علاوہ ایک اور تشریح اس الہام کی واقعات کے رو سے ہو گئی ہے اور وہ اس طرح کہ میرزا سلطان احمد صاحب احمدی ہو گئے اور مبالعین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی میں شامل ہو گئے۔اسی حالت میں انجام بخیر کے ساتھ وفات پا کر بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔اس بہشتی مقبرہ میں جس کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا كُلُّ مَقَابِرِ الْأَرْضِ لَا تُقَابِلُ هَذِهِ الْأَرْضَ“۔پھر جس کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”خدا کے کلام کا یہ مطلب ہے کہ صرف بہشتی ہی اس میں دفن کیا جائے گا۔“ غرضیکہ حضرت میرزا سلطان احمد صاحب مرحوم اس دارالابتلاء کے روحانی امتحان میں بھی پاس ہو گئے۔ذلك هو الفوز العظیم۔غرض میرزا سلطان احمد صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کی حالت انکار بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان تھی اور پھر آپ کا احمدی ا تذکره صفحه ۴۱۴ ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۱۹۰۷۱۴ء رساله الوصیت حاشیہ صفحہ ۲۲