ابنِ سلطانُ القلم — Page 104
ابن سلطان القلم ~ 104 ~ تھے اور وہ بھی اس طرح جیسے کوئی لڑکھڑا رہا ہے لیکن یہ طاقت بھی آہستہ آہستہ مفقود ہو گئی اور آپ چارپائی پر لیٹنے پر مجبور ہو گئے۔لمبی اور آخری بیماری کے دوران میں خاکسار کو بھی بہت کچھ خدمات کا موقع ملتا رہا۔میں نے مرزا صاحب مرحوم کو کبھی مغموم نہ پایا اور 166 اکثر لطائف کے رنگ میں بات کرتے تھے۔“ جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی بیعت لینے کے لیے بنفس نفیس تشریف فرما ہوئے تو اس وقت صاحبزادہ صاحب بستر علالت پر تھے۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”مرزا سلطان احمد صاحب کی طبیعت اس وقت اچھی تھی۔کوئی بخار وغیرہ یا کسی قسم کا عارضہ نہ تھا۔بجز اس تدریجی کمزوری کے جو لاتوں میں پیدا ہو گئی تھی اور شدید قبض کی شکایت تھی۔آپ اسی حالت میں لاتوں کی کمزوری کی وجہ سے لیٹے رہنے پر مجبور تھے مگر آپ کے علمی مشاغل جاری تھے مثلاً ،، اخبار پڑھنا وغیرہ۔۔“ باوجود اس ضعف و نقاہت کے آپ نے اپنی زندگی بھر کے رفیق کتاب و قلم کو نہیں چھوڑا۔ہاتھوں میں رعشہ کی وجہ سے خود لکھ نہیں سکتے تھے اس لیے خطوں وغیرہ کا جواب املا کروایا کرتے تھے اور آخر تک یہی الفضل قادیان ۱۱؍ دسمبر ۱۹۴۰ء الفضل قادیان ۱۱؍ دسمبر ۱۹۴۰ء