ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 105 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 105

ابن سلطان القلم ~ 105 - ~ خواہش رہتی تھی کہ کوئی کتاب پڑھنے کو میسر آجائے۔آپ کا علمی مشاغل میں اس قدر شغف دیکھ کر غالب کا یہ شعر یاد آجاتا ہے گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے مکرم فقیر سید وحید الدین صاحب بیان کرتے ہیں: ”مرزا سلطان احمد پر فالج کا حملہ جان لیوا ثابت ہوا۔علاج معالجے کے لیے انھیں لاہور لایا گیا۔راقم الحروف کے ایک بزرگ سید اصغر علی شاہ کے ہاں اُن کا قیام رہا۔یہ مکان ہمارے مکان سے ملحق تھا۔میں اکثر مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا۔اپنے خطوں کے جوابات وہ مجھ سے لکھواتے۔میرے لیے بڑی مشکل کا سامنا تھا۔مرزا صاحب بیمار ہونے کے باوجود روانی کے ساتھ خط کی عبارت فرفر بولتے اور میں اپنی بدخطی چھپانے کے لیے آہستہ لکھتا۔میری شست نگاری، اُن کی زود گوئی کا ساتھ کہاں دے سکتی تھی۔جب میں خط لکھ چکتا تو مرزا صاحب اُسے پڑھتے اور میں اُن کے تیوروں سے بھانپ لیتا کہ میری تحریر سے وہ مطمئن نہیں ہیں بلکہ کچھ دل گرفتہ ہی ہیں۔میں دل ہی دل میں شرمندہ ہوتا۔مجھے اُن کا ایک جملہ جو انھوں نے اپنے دوست کے خط میں مجھ سے لکھوایا تھا، آج تک یاد ہے: یہ خط وہ شخص کسی اور سے لکھوانے کا محتاج ہے، جو جب قلم اُٹھاتا تھا تو صفحے کے صفحے بے تکان لکھتا چلا جاتا اور پھر بھی اُس کا قلم وو رکنے کا نام نہ لیتا۔“ بھی