ابن رشد

by Other Authors

Page ix of 161

ابن رشد — Page ix

اس کی ذہنی و فکری رہ گزرا شاعر : سے مختلف تھی۔ایک آزاد خیال مفکر ومدبر کی حیثیت سے اس نے جہاں فلسفہ و حکمت کے بعض مسائل میں قدما سے اختلاف کیا وہاں فقہی مسائل میں مروجہ آرا سے وہ متفق نہیں رہا۔آزادانہ غور و فکر کے بعد منشاء شریعت کو سمجھتے ہوئے اس نے جو فیصلے صادر کئے ، وہ اس کی غیر معمولی ذہانت اور فقہی اجتہاد کا مظہر ہیں۔عورت کی امامت کا مسئلہ موجودہ زمانے میں ایک بہت اہم مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔علما کے درمیان اس پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔موافقت و مخالفت میں بہت سی باتیں کہی جارہی ہیں۔لیکن یہ نیا مسئلہ نہیں ہے اور نہ آزادی نسواں کی موجودہ تحریک سے اس کا تعلق ہے۔صدر اول کے فقہا کے یہاں بھی یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے۔نے پوری جرات سے عورت کی امامت کے حق میں رائے دی۔اس بارے میں مختلف آرا پیش کرتے ہوئے اپنی تائید میں اس نے ابوثور اور طبری کے حوالہ کے ساتھ جمہور کے برخلاف فتوی دیا ہے کہ عورت علی الاطلاق عورتوں اور مردوں دونوں کی امامت کر سکتی ہے۔بحیثیت قاضی اور بحیثیت حاکم عورت کے تقرر کو بھی اس نے جائز قرار دیا ہے۔اور موافق و مخالف رایوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عورت قاضی ، حاکم اور فرمانروا مقرر ہو سکتی ہے۔بغیر ولی عورت کے نکاح کے جواز و عدم جواز پر آج بھی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ابن شد نے ایک ہزار برس پہلے کہا کہ بالغ ہو نے پر عورت کو جب مال میں تصرف کا شرعی حق حاصل ہے تو یہ نظیر اس بات کے لئے کافی ہے کہ عورت کو بغیر ولی کے نکاح کا حق بھی حاصل ہے۔اس نے وراثت کے معاملہ میں قرآن کی واضح آیات کے سوا دوسرے تمام معاملات میں عورتوں کے حقوق کو مردوں کے مساوی تسلیم کیا ہے۔وہ جب قاضی القضاء کے منصب پر فائز ہوا تو اس کی عمر صرف ۲۷ برس تھی، اس نے اس منصب کی پوری مدت میں کسی فقیہ یا قاضی کی تقلید کے بجائے خود قرآن وسنت کی روشنی میں اجتہاد سے کام لیا۔قرطبہ کی جامع مسجد کے امام ابن قران نے اس کے فتاوی کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا جو پیرس کی نیشنل لائبریری میں محفوظ ہے۔کو موطا امام مالک حفظ تھی۔حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ابو تمام اور متنبتی کا دیوان بھی اسے حفظ یا تھا۔اپنے فلسفیانہ نظریات میں ارسطو کا بڑی حد تک تابع تھا۔اس نے ارسطو کے نظریات اور اسلامی تعلیمات میں مطابقت کی کوشش کی۔کا ئنات اور مادہ کی قدامت کا قائل تھا۔اس کے نزدیک مادہ از لی اور قدیم ہے اور اس کی بدلتی ہوئی صورتیں حادث ہیں۔افلاک کو بھی وہ ازلی مانتا تھا۔اس کے خیال میں خدا اس کا خالق نہیں ہے۔وہ صرف اس کی حرکت کو منظم کرتا ہے۔وہ ارواح کو فانی تسلیم کرتا تھا اور قوم عاد کے وجود کا منکر تھا۔اس کے فلسفیانہ نظریات سے علماء کو اختلاف رہا۔وہ اپنے استاد ابن باجہ کی طرح امام غزالی اور دوسرے علماء سے مختلف یہ رائے رکھتا تھا کہ حقایق تک پہنچنے کے لئے علوم کشفیہ کی نہیں علوم نظریہ کی ضرورت ہے۔مذہبی عقائد کے علاوہ عتاب شاہی کی ایک وجہ مشہور طبی مورخ ابن ابی اصیعہ نے دیکھی ہے کہ ابن (ii)