ابن رشد

by Other Authors

Page 58 of 161

ابن رشد — Page 58

جہت ہے ، وہ قیامت کے روز ہی دکھائی دے گا مگر اس کا جسم نہیں ہے تو اس قسم کا وجود ان کے ذہن میں سانہیں سکتا۔تاویل کے شرعی اصول کیا ہیں؟ تاویل کی ضرورت بیان کرتے ہوئے اس نے کہا: "شریعت نے جن باتوں میں واضح حکم دینے میں خاموشی اختیار کی ہے اس میں اور برہان عقلی میں کوئی تناقض نہیں ہے۔لیکن اگر شریعت نے ان کو بیان کیا ہے اور اس بیان کے ظاہری معنی بربان علی کے موافق ہیں تو اس میں کوئی بحث نہیں ہونی چاہئے۔ہاں اگر وہ برہان عقلی کے خلاف ہیں تو ان کی تاویل کرنی چاہئے۔تاویل کے معنی یہ ہیں کہ لفظ کے حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی لئے جائیں۔لیکن اس کے ساتھ اہل عرب نے مجازی معنی لینے کے جو اصول وضع کئے ہیں ان میں خلل واقع نہیں ہونا چاہئے، مثلاً یہ کہ ایک چیز کو بول کر اس کے مشابہ یا اس کے سبب یا عوارض وغیرہ مراد لئے جائیں۔فقہا بہت سے احکام شریعہ میں ایسا ہی کرتے ہیں، تو ایک فلسفی کے لئے ایسا کرنا اور بھی زیادہ مستحب ہے۔مسلمانوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ نہ تو شریعت کے تمام الفاظ کو ظاہری معنوں پر محمول کرنا چاہئے ، اور نہ ہی تاویل کے ذریعہ ان کے تمام معنوں کو چھوڑ دینا چاہئے۔ہاں اس بات میں اختلاف ہے کہ کن الفاظ کی تاویل کرنی چاہئے اور کن الفاظ کے ظاہری معنی لینے چاہئیں۔" مثل اشاعرہ آیت استواء اور حدیث نزول کی تاویل کرتے ہیں اور حنابلہ ان کے ظاہری معنی مراد لیتے ہیں " قرآن مجید پر اگر غور کیا جائے تو اس میں جمہور کی تعلیم کے تین طریقے موجود ہیں، جو اکثر لوگوں کی تعلیم میں مشترک ہیں، ان طریقوں سے بہتر طریقے کہیں اور نہیں پائے جاتے۔اس لئے جس شخص نے ایسی تاویل سے جو بذات خود واضح نہ ہو ان طریقوں میں تحریف کی یا سب پر اس کو ظاہر کر دیا، اس نے اس کی حکمت کو برباد کر دیا اور شریعت نے انسانی سعادت کا جو مقصد سامنے رکھا تھا ، اس کو ضائع کر دیا۔صدر اول اور اس کے بعد کے مسلمانوں کے حالات کے موازنہ سے یہ بات بخوبی ثابت ہوتی ہے۔صدر اول کے مسلمانوں کو جو فضیلت اور تقویٰ حاصل تھا اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ تاویلات نہیں کرتے تھے اور جو لوگ تاویل سے واقف تھے وہ اس کی تصریح کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔اس کے بعد کے مسلمانوں نے تاویل کا استعمال کیا تو ان کا تقویٰ کم ہو گیا، اختلافات بڑھ گئے اور باہمی محبت زائل ہو گئی۔" كشف المنا هيج کشف الادلہ میں نے اپنے دور کے چار مشہور فرقوں یعنی اشاعرہ معتزلہ، باطنیہ اور حشویہ کے عقائدہ پر تنقید کر کے ان کے طریق استدلال کی غلطی بیان کی ہے۔پھر اثبات باری تعالی ، توحید، صفات باری، حدوث عالم ، بعثت انبیاء، جور و عدل اور معاد کی حقیقت اور ان پر عقلی ونقلی دلائل پیش کئے ہیں۔اس نے بتایا ہے کہ 58