ابن رشد — Page 57
علم اور تجر علمی ہی نے تاریخ اسلام میں اس کو قد آور شخصیت کا جائز مقام دلایا تھا۔فصل المقال ( فیصلہ کن کتاب ) میں اس موضوع پر اس نے روشنی ڈالی ہے کہ کیا منطق و فلسفہ کی تعلیم جائز ہے پا نہیں؟ منطق و فلسفہ کے متعلق اس دور میں مسلمانوں میں دو گروہ پیدا ہو گئے تھے۔محدثین کا گروہ کہتا تھا کہ ان کی تعلیم جائز نہیں کیونکہ ان سے مذہبی عقائد میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔دوسرا گروہ کہتا تھا کہ فلسفہ دین کے عین مطابق ہے اور شریعت کی وہی تعبیر صحیح ہے جو فلسفہ کرتا ہے، اس لئے کہ ہر ظاہر کا باطن ہوتا ہے اور شریعت ظاہر ہے اور فلسفہ باطن کا کہنا ہے کہ ان دونوں گروہوں کی رائے ٹھیک نہیں۔اس کے نزدیک فلسفہ و منطق کا سیکھنا نہ صرف جائز بلکہ واجب و مستحب ہے کیونکہ قرآن حکیم میں خدا نے عالم کا ئنات سے اپنے وجود پر استدلال قائم کیا ہے۔جیسے آیات کریمہ: فاعتبروا یا اولی الابصار، فاعتبروا یا اولی الالباب۔عربی میں اعتبار اور قیاس ہم معنی لفظ ہیں یہی وجہ ہے کہ فقہاء اس قسم کی آیات سے قیاس فقہی ثابت کرتے ہیں۔اگر ان آیات سے قیاس فقہی کا جواز نکلتا ہے تو اس سے قیاس برہان کیوں جائز نہیں؟ قیاس کی ایک مثال : حضرت امام ابو حنیفہ نے حضرت امام باقر سے دریافت کیا کہ مرد ضعیف ہے یا عورت ؟ امام باقر نے فرمایا عورت۔پھر امام ابو حنیفہ نے سوال کیا وراثت میں مرد کا زیادہ حصہ ہے یا عورت کا ؟ حضرت امام باقر نے فرمایا مرد کا۔اب امام ابو حنیفہ نے کہا کہ اگر میں قیاس لگاتا تو کہتا کہ عورت کو زیادہ حصہ دیا جائے کیونکہ ظاہری قیاس کی بناء پر ضعیف کو زیادہ ملنا چاہئے۔( امام اعظم مطبوعہ فیروز سنز لاہور 1977 صفحہ 28) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فلسفہ سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں اس لئے اس کا سیکھنا حرام ہے، تو پوچھتا ہے کہ نفع و ضرر سے دنیا کی کون سی چیز مستی ہے؟ غذا کا بل اور اس کی کثرت معدہ میں بار پیدا کرتی ہے، اب کیا اس بناء پر یہ طبعی قاعدہ بنایا جا سکتا ہے کہ غذا طبی طور پر مصر ہے؟ کیا صرف فلاسفہ ہی بے دین ہوتے ہیں؟ کیا فقہاء کبھی گمراہ نہیں ہوتے؟ تجربہ بتلاتا ہے کہ فلسفہ سے زیادہ فقہ سے بے دینی کی اشاعت ہوتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ فقیہ کی بے دینی پر اس کا جبہ و عمامہ پردہ ڈالے رکھتے ہیں۔نصوص قرآنی کی تاویل جائز ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق مسلمانوں میں دو گروہ تھے ، ایک تاویل کو نا جائز سمجھتا تھا اور دوسرا اس کا قائل تھا۔سب سے پہلے اشاعرہ نے آیات متشابہات میں تاویل کی اور اس کے بعد یہ مسئلہ معرکتہ الآراء بن گیا۔کے زمانہ میں فلسفہ و مذہب میں باہمی تعلق کے مسئلہ کی طرح یہ مسئلہ بھی ارکان دین میں شمار کیا جاتا تھا۔نے کہا کہ تاویل جن نصوص میں جائز ہے وہ صرف ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو راسخ فی العلم ہیں۔عام لوگوں کو ظاہری معنی کی تلقین کرنی چاہئے۔مثلاً اگر عوام سے یہ کہا جائے کہ خدا ہے مگر اس کا کوئی مقام نہیں، نہ 57