ابن رشد — Page iv
ابتدائیہ مرکز فروغ سائنس کے قیام کے بعد سے ہی اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ مسلم اداروں، بالخصوص دینی مدارس میں سائنس کو فروغ دینے میں اُردو میں لکھی ہوئی سائنس کی کتا میں بہت کارآمد ثابت ہوں گی۔اگر یہ کتا ہیں عام نہم زبان میں ہوں اور یہ آسمانی فراہم ہو سکیں تو نہ صرف طلبہ بلکہ دیگر اردو جانے والوں کے لئے بھی مفید ثابت ہوں گی۔مرکز کے تعلیمی پروگراموں میں شریک ہونے والے ملک کے مختلف علاقوں سے بیشتر افراد بالخصوص مدارس کے اساتذہ نے بھی اس بات کی طرف نہ صرف توجہ دلائی بلکہ بار بار یہ فرمائش بھی کی کہ مرکز فروغ سائنس جدید علوم کو اُردو زبان میں پیش کرنے کا بیڑا اٹھائے۔لیکن بعض نامساعد حالات کہ وجہ سے مرکز اس کام میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جناب محمد حامد انصاری صاحب نے اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کی اور ہر قدم پر مدد کی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اردو میں سائنسی تعلیم کا مواد تیار کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی شروعات ہوسکی۔اس کے تحت مرکز نے مندرجہ ذیل اقسام کی کتابوں کو لکھوانے اور ان کی اشاعت کا ایک پروگرام بنایا۔ابتدائی سائنس کی نصابی اور اضافی کتابیں جو دینی مدارس اور اُردو میڈیم اسکولوں میں استعمال کی جاسکیں۔جدید سائنسی موضوعات پر عوام کے لئے عام فہم زبان میں کتا ہیں۔معیاری کتابوں اور مضامین کے اردو تراجم اور تشخیص۔اساتذہ کے لئے سائنس پڑھانے میں معاون کتابیں۔سائنس دانوں کے مختصر حالات زندگی اور کام پر مبنی کتا ہیں۔مرکز کے اشائی پروگرام کی پہلی کتاب تھے سائنس داں " جنوری ۲۰۰۲ء میں شائع ہوئی۔اس منصوبے میں سائنس کی ڈکشنری اور مسلمان سائنس دانوں کے کارناموں پر کتابوں کی ایک سیر یز بھی حال ہی میں شامل کی گئی ہے۔موجودہ وائس چانسلر جناب نسیم احمد صاحب نے نہ صرف ہمت افزائی اور مدد جاری رکھی بلکہ ذاتی دلچپسی بھی لی جس سے یہ سلسلہ نہ صرف قائم ہے بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔مرکز کی سرگرمیوں میں ان کی ذاتی دلچسپی اور