ابن رشد — Page 15
مجبور ہوں ، اتنا وقت نہیں کہ تصانیف اور شرحوں کے کام سکون خاطر سے سرانجام دے سکوں۔علم فلکیات کی مشہور و معروف کتاب محسطی کی تلخیص میں اس نے لکھا ہے کہ میں نے صرف اہم مطالب لئے ہیں کیونکہ میری حالت بالکل ایسے شخص جیسی ہے جس کے مکان میں آگ لگی ہو اور وہ اضطراب کی حالت میں مکان کی قیمتی اشیاء کو باہر نکال نکال کر پھینک رہا ہو۔عدالت کے کاموں کے سلسلے میں اس کو دور و نزدیک شہروں کے لیے لیے سفر بھی کرنے پڑتے تھے، آج مرائش میں تو کل قرطبہ میں اور پھر افریقہ جیسے دور کے ملکوں کے سفر۔لیکن اس دوران بھی ترجمہ و تالیف کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔یادر ہے کہ دس سال تک (1182-1172ء ) وہ قرطبہ میں قاضی کے عہدے پر فائز رہا۔کتاب البیان اور کتاب الا نھیات 1174ء میں دونوں اکھٹی لکھنا شروع کیں لیکن اس دوران صاحب فراش ہو گیا، زندگی کی کوئی امید نہ رہی۔اس خیال کے پیش نظر پہلی کتاب کو چھوڑ کر کتاب الالهیات کو مکمل کرنا شروع کر دیا۔1178ء میں اس کو مراقش کا سفر کرنا پڑا تو یہاں رسالہ جواهر الکون زیب قرطاس کیا۔کچھ ماہ بعد اس کو اشبیلیہ واپس آنا پڑا تو یہاں علم کلام میں دو جلیل القدر کتابیں یعنی فصل المقال اور کشف عن مناهيج الادلة (1179ء) قلم بند کیں۔1182ء میں ابن طفیل کی وفات کے بعد خلیفہ یوسف نے اس کو مراقش بلوا کر شاہی طبیب مقرر کیا۔خلیفہ اس کی خدمات سے اس قدر خوش تھا کہ اسی سال محمد بن مغیث کی رحلت پر اسے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز کیا۔ایک طرف شاہی طبیب ہونے کے باعث اس کو مرافقش میں قیام کرنا پڑتا تھا تو دوسری طرف چیف جسٹس ہونے کے باعث اندلس کے تمام اضلاع کا دورہ کرنا پڑتا تھا۔یہ اس کی دنیوی ترقی میں آخری منصب تھا جس پر اس کے دادا اور والد بھی سرفراز رہ چکے تھے۔نو سال تک (1178-1169ء ) دو ارسطو کی کتابوں کی تلخیص اور شروح متوسط لکھتار با 1180-1174ء کے دوران اس نے اپنی طبع زاد کتابیں لکھیں جیسے فصل المقال، كشف عـن الـمـنـاهيج اور تهافت التهافة۔اس کے بعد اس نے شروح بسیط ( تفاسیر لکھنی شروع کیں۔خلیفہ ابو یعقوب یوسف کی وفات پر اس کا بیٹا یعقوب منصور ( 1199-1184ء ) تخت نشین ہوا۔یہ نہایت دین دار، عالم باعمل تھا۔وہ پنج وقتہ نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرتا تھا۔اس کے دور خلافت میں موحدین کی حکومت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔اس نے عیسائیوں کو شکست دے کر اندلس کے کھوئے ہوئے اضلاع واپس لئے بلکہ ایک وقت میں تو ددان کے دارلخلافہ طلیطلہ (Toledo) پہنچ گیا۔وہ فقہ وحدیث میں مہارت رکھتا تھا اس نے فقہاء کو حکم دیا تھا کہ وہ کسی امام کی تقلید نہ کریں بلکہ خود اجتہاد سے فیصلے کریں۔عدالتوں میں جو فیصلہ کیا جاتا تھا وہ قرآن، 15