ابن رشد — Page 14
រ اور ابن طفیل میں گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ابن طفیل چونکہ گوہر شناس تھا اس لئے اس کی رسا عقل اور دور اندیشی کے طفیل سے وہ علمی کارنامہ انجام پذیر ہوا جس کے باعث وہ تین صدیوں تک یورپ کے لاطینی حلقوں میں آفتاب نیم روز کی طرح چمکتا رہا۔ابن طفیل ابن باجہ کا شاگرد ہونے کے ساتھ اس کا مقلد بھی تھا۔چنانچہ اپنے فلسفیانہ ناول حي ابن يقظان میں ابن باجہ کی تصنیف کے تذکرے میں اس نے کا ذکر درج ذیل الفاظ میں کیا ہے: و اما من جاء بعدهم من المعاصرين لنا فهم بعد في حد التزايد والوقوف على غير کمال او لمن لم تصل الينا حقيقه ابن باجہ کے بعد جو فلاسفہ ہمارے معاصر ہیں وہ ابھی دور تکون میں ہیں اور کمال کو نہیں پہنچے ہیں اور اس بناء پر ان کی اصلی قابلیت کا اندازہ ابھی نہیں ہو سکتا۔" یہاں ہمارے معاصر " سے اشارہ کی طرف ہے۔اسی حسن ظن کی بناء پر بن طفیل نے کی یوسف بن عبد المومن کے دربار میں رسائی کرائی تھی۔خلیفہ ابو یعقوب یوسف کے دربار میں پذیرائی اور قدرشناسی کے بعد کی دنیوی ترقی اور علمی فضیلت کا دور شروع ہوا اور وہ شہرت کے پروں پر اڑنے لگا۔جب اس کو 1169ء میں اشبیلیہ کا قاضی ( مجسٹریٹ ) مقرر کیا گیا تو اس نے قرطبہ سے اشبیلیہ میں رہائش اختیار کی۔شرح کتاب الحیوان کے چوتھے باب میں جو اس نے اسی سال مکمل کی تھی اس نے قاضی کے فرائض بیان کئے ہیں، اور معذرت طلب کی ہے کہ اگر کتاب میں سہو و خطا ہو گئی ہو تو معافی کا امید خواہ ہوں کیونکہ عہدہ قضا کی مصروفیتوں سے فراغت نہیں ملتی۔نیز میرا کتب خانہ بھی قرطبہ میں ہے اور حوالوں کے لئے مطلوبہ کتا میں اس وقت یہاں موجود نہیں "۔وہ تین سال بعد یعنی 1172ء میں قرطبہ واپس منتقل ہوا۔غالباً اسی سال اس نے ارسطو کی کتابوں کی ایسی شرحیں لکھنی شروع کیں جو تنوع مضامین اور وسعت معلومات کے پیش نظر شرح بسیط کہلاتی ہیں جبکہ اس سے پہلے کی لکھی گئیں شرحیں مختصر (epitome) ہوتی تھیں۔کو جس قدر علمی شوق تھا اسی قدردہ کثیر الاشغال بھی تھا لیکن اس کثیر الاشغالی میں بھی تصنیف و تالیف کا کام ہمہ وقت جاری رہتا تھا۔علمی کاموں کے لئے دماغی سکون، ارتکاز اور نجی امور اور عائلی مسائل سے فرصت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دربار سے تعلق اور عدالت کے قاضی ہونے کی وجہ سے وہ معمولات زندگی میں از حد مصروف رہتا تھا۔خود اس کی دلی خواہش تھی کہ دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر تمام وقت صرف اور صرف علمی کاموں میں صرف کرے۔لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔اپنی تصنیفات میں اس نے شکایت کی ہے کہ میں فرائض منصبی کے پیش نظر بہت 14